3

’’کرکٹ سے دوری بہت مشکل ہے‘‘

اسلام آباد(نیو زڈیسک)پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی عائشہ ظفر کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سب سے مشکل مرحلہ کرکٹ نہ کھیل پانا ہے، وہ اپنا کرکٹ روٹین، میچز کھیلنا، نیٹس پر جانا، سب بہت مس کررہی ہیں اور جس دن لاک ڈاؤن ختم ہوگا وہ سب سے پہلے نیٹس پر جاکر کرکٹ کھیلیں گی۔نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں 25 سالہ بیٹر نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں یوں لگا کہ جیسے زندگی رک سی گئی ہو، لوگوں سے روابط محدود ہوگئے اور روزانہ ایک سا ہی معمول بن گیا تھا۔انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ گھر سے بالکل باہر نہیں نکل پائیں گے زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ بیس دن مکمل گھر پر ہی گزارے ہوں اور کہیں باہر نہیں گئے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ جب گھر پر ہوتی ہیں تو والدہ کے ساتھ کچن میں ہاتھ بٹا لیا جاتا ہے لیکن ساتھ ساتھ کوشش ہوتی ہے کہ فٹنس پر بھی کام جاری رکھا جائے۔23 ایک روزہ میچز اور 17 ٹی ٹوئنٹی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی عائشہ ظفر کا کہنا تھا کہ ان دنوں وہ خود کو فٹ رکھنے کے لیے زومبا ورک آؤٹ کررہی ہیں جس سے نہ صرف وقت اچھا گزرتا ہے بلکہ فٹنس بہتر کرنے میں بھی مدد ملتی۔عائشہ ظفر کی دو بہنیں مدینہ ظفر اور فائزہ ظفر پاکستان کی قومی اسکواش پلیئرز ہیں اور قومی کرکٹر کہتی ہیں کہ اسکواش پلیئر بہنوں کے ساتھ گھر پر فٹنس میں مقابلہ رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کیلئے اپنے اپنے اچھے میچز بھی ڈسکس کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ بہترین فٹنس ورک آؤٹ پلان پر بھی آپس میں مقابلہ رہتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں