14

اگر آپ کی آنکھیں سرخ ہو رہی ہیں تو خبردار ..!! مہلک بیماری کی نئی علامت بھی سامنے آگئی ،جانئے

ایک امریکی نرس کے مطابق کورونا وائرس کے باعث دیگر علامات میں سے آنکھوں کا سرخ ہونا بھی ایک علامت ہے۔امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کے لائف کئیر سینٹر میں بطور نرس ڈیوٹی انجام دینے والی خاتون چیسلی ارنسٹ نے اس حوالے سے دعویٰ کیا کہ اگر کسی شخص کی آنکھیں مستقل طور پر لال رہتی ہیں تو اُسے بھی کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانا چاہئے۔امریکی نرس کا کہنا تھا کہ آنکھوں کا لال ہونا کورونا وائرس کی ایک اہم علامت ہے کیونکہ جتنے بھی مریض اسپتال آئے ان سب کی آنکھیں سرخ تھیں اور انہیں نزلہ ، بخار کے ساتھ سانس لینے میں سخت پریشانی کا سامنا تھا۔ان تمام معاملات کے پیشِ نظر کئی طبی ماہرین اس سے قبل خشک کھانسی، نزلہ اور بخار اور سانس لینے میں دشواری کو کورونا کی علامات بتا چکے ہیں۔چیلسی کی جانب سے یہ دعویٰ اُس وقت کیا گیا جب ماہرین کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ گلابی آنکھیں، سینہ جکڑنے جیسی عام بیماریوں میں مبتلا افراد ضروری نہیں کہ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہوں. مزید پڑھیئے :: پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے بعد کئی اداروں نے گھر سے کام کرنے سے متعلق باقاعدہ اجازت دے دی ہے تاہم اکثریت اس سہولت سے اب بھی محروم ہے۔بین الاقوامی اداروں کے لیے کام کرنے والے ملازمین کو بین الاقوامی قواعد کے تحت گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہےپاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے کی صورت میں بہت سے لوگ اب گھر سے کام کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جبکہ کئی اداروں نے اس بارے میں باقاعدہ طور پر اجازت بھی دے دی ہے۔اس وقت کئی ایسے پیشے ہیں جن میں ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنا ممکن ہے۔ وہ افراد جن کا تعلق آن لائن خرید و فروخت، آن لائن بینکنگ یا اکاؤنٹنگ سے ہے وہ با آسانی گھر سے کام کرسکتے ہیں۔کون سے ادارے گھر سے کام کرنے کی اجازت دے رہے ہیں؟اس وقت صرف وہ افراد جو بین الاقوامی اداروں کے لیے کام کرتے ہیں ان میں ملازمین کو بین الاقوامی قواعد کے تحت گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ان اداروں میں اینگرو پاکستان نے مارچ کے مہینے میں اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت تب دی جب ان کی کمپنی میں کام کرنے والے ایک ملازم میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔اینگرو کے ترجمان امان الحق نے بتایا کہ ان کے پاس کام کرنے والا شخص حال ہی میں بیرونِ ملک سفر کرکے ملک واپس پہنچا تھا۔اینگرو کے ترجمان نے بتایا کہ ’ہمیں جلد ہی سمجھ آگیا تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے اس وقت دور کر دینا بہتر ہے کیونکہ اس سے باقی لوگوں کی زندگیوں کو نقصان ہوسکتا ہے۔‘اس وقت اینگرو کے دفاتر میں صرف 20 فیصد افراد کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور زیادہ تر میٹنگ واٹس ایپ اور ویڈیو کال ایپ زوُم کے ذریعے کی جارہی ہیں۔’اس سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ بسوں اور ٹیکسی کے ذریعے پہنچنے والے افراد کا وقت بچ جاتا ہے۔ ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ تقریباً 90 منٹ روز کے بچ جاتے ہیں جو دیگر صورتوں میں ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچنے میں لگ جاتے ہیں۔ گھر سے کام بروقت ہو رہا ہے۔‘اس کے علاوہ اینگرو میں کام کرنے والے چینی ملازمین کو چینی حکومت کورونا وائرس کے لیے ٹیسٹ اور سکریننگ کرکے پاکستان بھیج رہی ہے جبکہ واپس اپنے ملک جانے پر اُن کو سیلف آئسولیشن اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ان چینی ملازمین میں پلانٹ پر کام کرنے والوں کی ایک کم تعداد جبکہ گھر سے کام کرنے والوں کو بھی کمپنی کی 20 فیصد پالیسی کے تحت کام کرایا جارہا ہے۔ یعنی بغیر ضرورت ملازمین کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو روز پلانٹ پر ہونا ضروری ہے۔امان الحق خود بھی پچھلے ایک ہفتے سے گھر سے کام کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب تک دو بار ضرورت کے تحت دفتر جانے کے بجائے اُنھوں نے تقریباً تمام کام گھر سے ہی کیے ہیں۔اس وقت بڑے اداروں میں چینی ویڈیو ایپ زوُم کے علاوہ منڈے بھی استعمال کی جارہی ہے۔ جس کے تحت ویڈیو کال میں تقریباً چھ سے سات افراد ایک بیک وقت بات کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں