16

پاکستان میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ملیریا کی دوا فروخت کرنے پر پابندی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کرونا وائرس کے علاج اور بچاؤ کے سلسلے میں کلوروکین نامی دوا کے مبینہ استعمال پر پاکستان میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر فروخت پر پابندی لگا دی گئی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے کرونا وائرس کے علاج کے سلسلے میں ملیریا کی دوا کلوروکین کے استعمال کے معاملے پر ہیلتھ ایڈوائزری جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس تناظر میں تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بغیر ڈاکٹر کی ایڈوائس کے میڈیکل اسٹورز پر کلوروکین دینے پر پابندی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹویٹ میں کلوروکین کا ذکر کیا گیا تھا جس کے بعد بہت سے لوگوں نے کلوروکین کا استعمال شروع کر دیا، کلوروکین کے معاملے پر ڈاکٹرز اور سائنس دان کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے، بعض افراد نے کرونا لاحق ہوئے بغیر بھی صرف قوت مدافعت بڑھانے کے لیے اس دوا کا استعمال شروع کر دیا۔شہباز گل نے کہا کہ آج وزارت صحت اس معاملے پر ہیلتھ ایڈوائزری جاری کر رہی ہے، بغیر ڈاکٹر کی ایڈوائس کے میڈیکل اسٹورز پر کلوروکین دینے پر پابندی ہوگی، کلوروکین نامی دوا کے بہت سے نقصانات بھی ہو سکتے
ہیں، سائڈ ایفیکٹ کے طور پر یہ دوا دل اور جگر کو نقصان پہنچا سکتی ہے، ٹرمپ کی ٹویٹ کے بعد لوگوں نے مارکیٹ سے کلوروکین خریدنا شروع کر دی ہے جس سے خدشہ پیدا ہوا ہے کہ کہیں دل اور جگر کے مریض نہ بڑھ جائیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پاکستان کے پاس اپنی ضروریات کے لیے دوائی کا مطلوبہ اسٹاک موجود ہے، بازار سے کلوروکین نہ ملے تو ہرگز مطلب نہیں کہ پاکستان میں اسٹاک کم ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں