10

دہی میں پائے جانے والے بیکٹریا کتنے مفید ہیں ؟ کرونا وائرس کے علاج میں حیران کن انکشاف

اگر آپ موسم گرما میں نزلہ زکام و بخار کا شکار رہتے ہیں تو دہی کو استعمال کرکے دیکھیں وہ ان تکلیف دہ امراض کی شدت کم کرنے یا ان سے بچاؤ کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ وینڈیربلٹ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق کے مطابق دہی میں پائے جانے والےانسان دوست بیکٹریا نزلہ بخار کی شکایت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق کے دوران جب ماضی کی 17 تحقیقی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ یہ انسان دوست پرو بائیوٹیکس نامی بیکٹریا کسی عام دوا کے مقابلے میں زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ نزلہ بخار کسی الرجی خاص طور پر پولن پاؤڈر کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں ناک، آنکھیں اور گلا وغیرہ سوج جاتے ہیں اور ان میں خارش بھی ہونے لگتی ہے تاہم دہی کے استعمال سے مرض کی شدت میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی علامات نزلہ بخار میں دہی کے استعمال سے کوئی خاص مضر اثرات بھی صحت پر مرتب نہیں ہوتے۔ محققین کا کہنا ہے کہ دہی میں پائے جانے والے بیکٹریا ممکنہ طور پر خوف کے سفید خلیات پر اثر انداز ہوتے ہیں جو کہ ہمارے جسمانی دفاعی نظام کے اہم ہوتے ہیں تاہم ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔مزید پڑھئیے ::لاہور (نیوزڈیسک) عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق سال 2011 ءمیںدو لاکھ پچاس ہزار افراد ملیریا میں مبتلا ہوئے جن میں سے کچھ ملیریا کی مہلک قسم کا بھی شکار ہوئے ، تقریباً دنیا کی نصف آبادی خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک ملیریا کے خطرے سے دوچار ہیں اورہر سال 500 ملین (50 کروڑ) سے زائد افرادملیریا میں مبتلا ہوتے ہیں اور ایک ملین یعنی 10 لاکھ افراد اس بخار کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین حکیم انقلاب طبی کونسل پاکستان پروفیسر حکیم محمد شفیع طالب قادری حکیم غلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں