49

زندگی واقعی تماشا ہے

سرمد کھوسٹ کی فلم ‘زندگی تماشا’ پر تحفظات کا جائزہ لینے کیلئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔پنجاب حکومت نے فلم کی دوبارہ اسکریننگ کیلئے سرمد کھوسٹ کو تحریری طور پر آگاہ کردیا۔تحقیقاتی کمیٹی فلم کے بارے مختلف حلقوں کی شکایات اور تحفظات کا دوبارہ جائزہ لے گی۔ فلم کے ریویو کیلئے 3 فروری کی تاریخ مقرر کردی گئی۔
سرمد کھوسٹ نے اس بارے میں سوشل میڈیا پر پاکستانی حکومت اور عوام کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ یہ فلم دنیا کی دیگر فلموں کی طرح اپنے ارد گرد کے ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’قانون کی پاسداری کرنے والے ایک شہری اور اس مکمل یقین کے ساتھ کہ فلم میں کچھ بھی توہین آمیز یا بدنیتی پر مبنی نہیں ہے میں نے فلم کو دوبارہ جائزے کے لیے سینسر بورڈ کو پیش کیا اور ایک مرتبہ پھر صرف شکایت گزاروں کو خوش کرنے کے لیے معمولی سی تبدیلی کے ساتھ فلم دوبارہ نمائش کے لیے منظور کر دی گئی۔‘
سرمد کھوسٹ کہتے ہیں کہ اب فلم کی ریلیز سے ایک ہفتہ قبل انھیں اور ان کی ٹیم کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور فلم کی نمائش روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس فلم کے بارے میں برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پہلے یہ فلم ملک کے تینوں سینسر بورڈز سے پاس کروائی اور بعد میں صرف ڈھائی منٹ کے ٹریلر کو دیکھ کر کچھ لوگوں نے مفروضوں کی بنیاد پر اس کے خلاف شکایت درج کروائی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی فلم کسی فرقے یا مسلک کے بارے میں نہیں ہے اور اس فلم کا مرکزی موضوع صرف عدم برداشت ہے۔
’جب آپ کسی حقیقی صنف میں کام کرتے ہیں تو اس کردار کے ہر پہلو پر بات ہوتی ہے۔ (اس فلم کا مرکزی کردار) ایک پراپرٹی ایجنٹ ہے، وہ ایک باپ ہے، وہ ایک لاہور پنجابی ہے، وہ ایک خیال رکھنے والا شوہر ہے اور وہ شوقیہ طور پر، پیشہ وارانہ طور پر نہیں، ایک نعت خواں بھی ہے۔‘وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ ایک مکمل کردار کی، جیتے جاگتے زندہ کردار کی کہانی ہے۔ پھر اس کی زندگی میں ایسا بہت معمولی سا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان تمام پہلوؤں پر تنازعات اٹھتے ہیں، اس کے کام پر تنازع ہوتا ہے، جہاں وہ شوقیہ طور پر کام کرتا ہے اس کے حوالے سے بھی تنازع ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فلم کسی بیرونی کومنٹری کے بارے میں نہیں ہے، یہ اندرونی احساسِ زیاں کے بارے میں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ان کے فلم کے مرکزی کردار کے ساتھ ’جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ ذاتی عدم برداشت کا بھی شکار ہوتا ہے، وہ ہمسایوں کی عدم برداشت کا بھی شکار ہوتا ہے، اور سائبر سپیس میں بھی عدم برداشت کا شکار ہوتا ہے۔‘سرمد کھوسٹ نے یہ بھی کہا کہ مذہب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے اور ’کیسے ممکن ہے کہ جب آپ ایک کہانی مکمل طور پر سنائیں، تو اس کا ذکر نہ آئے، ہم چیزوں کی طرف اشارہ ضرور کر رہے ہیں مگر بالکل صاف ہے کہ وہ فلم کا مرکزی خیال نہیں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کسی مسلک کے بارے میں نہیں ہے، میں اس فلم کی ایک سطری سمری دیتا ہوں تو یہ کہانی ایک قابلِ قبول مسلمان کے بارے میں ہے۔ نہ اس فرد کو یہ کہانی میں اس سے ملنے والے دیگر افراد کو کسی بھی مسلک یا فرقے یا سیاسی جھکاؤ سے جوڑا گیا ہے، یہ تو بس زندگی کا ایک حصہ ہے۔‘
سرمد کا کہنا تھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ صرف ایک جماعت کو ایسا کیوں لگ رہا ہے؟انھوں نے بتایا کہ اس فلم میں عید میلاد النبی کی ایک محفل کو دکھایا گیا تھا ’جس کی عکس بندی کے دوران میں نے ایک دستاویزی فلم کے انداز جو کچھ بھی ہو رہا تھا، اس کو ایک فیسٹیول اور جشن کے طور پر عکس بند کیا۔ وہاں جو جو مناظر اور جو جو آوازیں تھیں، وہ میں نے شوٹ کیں تو اس کے آخر میں ایک نعرہ لگ رہا تھا لبیک یا رسول اللہ وہ بھی میں نے ریکارڈ کیا اور بعد میں نے ٹریلر میں بھی استعمال بھی کر لیا۔۔۔اب کسی طرح یہ تعلق بن گیا کہ میں ان کی بات کر رہا ہوں۔ اب تھوڑا سا ذکر نلی ٹی وی چینل کے ڈرامہ میرے پاس تم ہو کا احوال کچھ یوں ہے کہ اگر کسی جوڑے کی محبت کا انجام نکاح پر ہو تو ہونا یہ چاہیے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو کمیوں اور خامیوں کے ساتھ مکمل طور پر قبول کریں مگر اکثر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ایسی کامیاب محبت کا انجام طلاق پر ہوتا ہے ۔
ڈرامہ سیریل ”میرے پاس تم ہو“ کی کچھ ایسی کہانی ہے جس نے عوام میں بہت پذیرائی حاصل کی۔ جس میں کردار دانش اور مہوش کے درمیان دیوار اسوقت پیدا ہوتی ہے کہ دانش اسکی ضرورتیں تو پوری کررہا ہوتا ہے مگر خواہشات پوری نہیں کرسکتا ۔خواہشات کی کوئی حدود نہیں ہوتی انہی خواہشات کی رو میں بہہ کر انسان صحیح اور غلط کی تمیز کھو بیٹھتا ہے ۔اگر انہی خواہشات کی رو عورت بہہ جائے تو ساری حدیں پار کرلیتی ہے۔اس ڈرامے میں کردار شہوار ایک شیطان صفت انسان بن کر انکی زندگی میں آتا ہے کیونکہ شیطان کے چیلوں کو شاباش اس بات پر ملتی ہےکہ جب وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈلوادیتے ہیں یا کسی کی طلاق کروادیتے ہیں ۔شہوار مہوش کو اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ وہ بہت خوبصورت ہے، کسی امیر شخص کو deserve کرتی ہے اور دانش کسی طور سے اسکے قابل نہیں جبکہ دانش مہوش سے بہت محبت کرتا ہے اور اسکے بارے میں بہت possessive ہے ۔پچھلے کئی عرصے سے ٹی وی چینلز پر ایسے ڈرامے دکھائے جارہے ہیں جو مسلسل خاندانی نظام کو ٹارگٹ کئے ہوئے ہیں۔اس سیریل کو دیکھنے کے بعد ایسا لگاکہ اسلام کے خاندانی نظام کا دشمن آج کامیاب ہوگیا کہ ایک عورت کو پورا حق ہے کہ وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے کسی دوسرے مرد سے تعلق بنائے، اپنی خواہشات اور مال و دولت کی لالچ میں اپنے گھر اور بچے کو کوئی اہمیت نہ دے، صرف اور صرف اپنی خواہشات کی فکر کرے۔اور اپنی بیوی کے اس عمل پر ایک مرد کو ذراسی غیرت نہ آئے بلکہ وہ مکمل بےغیرت بن کر اسے دوسرے کے حوالے کردے اور اسے انسانیت و محبت کا نام دیا جائے۔
مردوں سے برابری کے اس دوڑ اپنی خواہشات کے حصول کی خاطر ایک عورت اپنی اولاد کوبھی روند دیتی ہے اور اسے اسکا احساس نہیں رہتا ۔ایسے تمام ڈرامے اپنی مقبولیت کے تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ اسلام کے خاندانی نظام کے دشمنوں کے خلاف اسلامی نظریاتی کونسل جاگی اور نہ ہی علماء کونسل کی غیرت ایمانی نے انگڑائی لی۔ سنسر بورڈ لمبی تان کر سویا رہا ۔نہ ہی کسی حکومت کو جوش آیا۔سر مد تم بھی عجیب آدمی ہو ملک اور معاشرے میں نیا فساد شروع کر دیا ہے ، تمہیں ذرا بھی شرم نہ آئی۔ تم نے جو زندگی تماشا ہی بنانی تھی تو پہلے اسلامی نظریاتی کونسل سے پوچھ لیا ہوتا، فلم کا سکرپٹ لے جا کر کسی مولوی سے استخارہ ہی کروا لیتے۔ اور کچھ نہیں تو کسی طوطے سے فال نکلوا لی ہوتی یا کسی میاں مٹھو کا آشیر باد لے لیا ہوتا۔یہاں تو پہلے ہی نمائش پر بڑی بڑی فلمیں لگی ہیں ۔کبھی آئین کی بالادستی کا ڈرامہ ، ایک طرف کشمیر کی آزادی کے دعوے ۔ یہاں تو جدھر دیکھو ادھر تماشا ہے، اور تم ہو کہ سینماؤں میں ایک نیا تماشا دکھانا چاہتے ہو۔ کہیں مفت روٹی کھلانے کا احسان تو کہیں گوشت چیلوں کو کھلانے کا تماشا۔ کبھی گندم کی اضافی پیداوار پر شادیانے تو کبھی آٹے کے بحران کا تماشا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں