چین کی زمبابوے پرعائد پابندیوں کو ختم کرنے کی اپیل کی حمایت

زمبابوے کے مقامی وقت کے مطابق بارہ تاریخ کو چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور زمبابوے کے وزیر برائے سفارتی اور عالمی تجارتی امور سیبیوسیو بسی مویو نے مشترکہ طور پر صحافیوں سے ملاقات کی۔اس موقع پر وانگ ای نے کہا کہ کچھ ممالک اور اداروں نے زمبابوے پر یک طرفہ پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ عمل عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس سے زمبابوے کےترقی کے حصول کے جائز حق کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ چین زمبابوے اور افریقی ممالک کی جانب سے زمبابوے پرعائد پابندیوں کو جلد ختم کرنے کی اپیل کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔

اس موقع پر ایک صحافی نے وانگ ای سے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ گزشتہ تیس برسوں سے چینی وزیرخارجہ ہر سال اپنے غیرملکی دوروں کا آغاز افریقہ سے کرتے ہیں۔ وانگ ای نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر سال چینی وزیر خارجہ کا پہلا غیر ملکی دورہ افریقہ کا ہوتا ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ چین اور افریقہ کی دوستی کئی نسلو ں سےجاری ہے۔ چین اور افریقہ اپنے اپنے ممالک اور قوم کی آزادی کے حق میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایک دوسرے کے قابل اعتماد دوست ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقی کے سفر میں بھی چین اور افریقہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور باہمی مفادات کی بنیاد پر اچھے ساتھی بن چکے ہیں۔ برسوں کے اس سفر میں چین اورافریقہ کی دوستی عالمی تعلقات کی ایک اہم مثال بن چکی ہے ۔دوسرا یہ کہ چین اور افریقہ کا گہرا تعاون اور مشترکہ ترقی وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ چین سب سے بڑا ترقی پزیر ملک ہے اور افریقہ میں ترقی پزیر ممالک کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ لہذا دونوں میں تعاون کی وسیع گنجائش موجود ہے۔

حالیہ برسوں میں چین افریقہ تعاون فورم منعقد ہوا ہے۔ چین اور افریقہ دی بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر میں حصہ لے رہے ہیں، ان عوامل کی وجہ سے چین اور افریقہ کا تعاون نئے عہد میں داخل ہو گیا ہے۔ چین افریقہ کے ساتھ تعاون کے روشن مستقبل کے حوالے سے پرامید ہے۔ تیسرا عالمی امور پر چین افریقہ مشاورت مشترکہ مفادات کے تحفظ کے تقاضوں کے مطابق ہے۔اس وقت دنیا میں یک طرفہ پسندی بڑھ رہی ہے اور زور زبردستی کی سیاست پھر سے سر اٹھا رہی ہے۔ افریقہ سمیت ترقی پزیر ممالک اس کا شکار ہیں ۔ لہذا چین -افریقہ مشاورت کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں