عوام کو یہ معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے؟ یہ ہم پر چھوڑ دیں:آصف غفور

راولپنڈی (نیوز ڈیسک) :ڈائریکٹر جنرل آف انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کچھ بھی ہونے کی صورت میں فوج کی منصوبہ بندی مکمل ہے۔ عوام کو یہ معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے؟ یہ ہم پر چھوڑ دیں۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور سے سینئر صحافی حامد میر نے سوال کیا کہ ”آپ نے اپنی گفتگو میں افغانستان اور افغانستان میں امن کے عمل سے متعلق بات چیت کی۔ 5 اگست کو بھارت نے جو اقدام کیا تو ان کے میڈیا میں آنے والی خبروں سے ہی یہ سمجھ آتی ہے کہ افغانستان کا امن عمل ان کے مفاد میں نہیں ہے۔ آپ نے کہا کہ افغان عمل کیلئے آپ نے مغربی بارڈر پر دو لاکھ فوجی تعینات کئے ہوئے ہیں مگر بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیانات سے لگتا ہے کہ ان کی آزاد کشمیر پر نظر ،ہے اگر وہ جارحیت کا ارتکاب کرتے ہیں تو آپ خود ہی وکہہ رے ہیں کہ ہم انتہاءتک جائیں گے ، تو ایسا ہونے پر افغان بارڈر پر تعینات دو لاکھ فوجی ہٹانے پڑیں گے، ایسا ہوتا ہے تو بین الاقورامی طاقتوں کا کیا ردعمل ہوگا۔“

ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیتے ہوئے کہا ہمارے مطابق بھارتیوں کی یہ سوچ ہے کہ چونکہ پچھلے 20 سال جنگ کے باعث ہماری معیشت پر اثر پڑا، ہماری فوجیں سرحد پر تعینات ہیں، ہم نے الحمد اللہ اپنے ملک میں امن کر لیا ہے اور جیسے جیسے افغانستان میں عمل ہوتا ہے، جیسا کہ ہم باڑ لگانے کا عمل بھی مکمل کر رہے ہیں، تو ہمیں وہاں سے ریلیف ملے گا اور فوجیوں کی تعداد میں کمی ہو گی، نئے ونگز بنائے بنائے جا رہے ہیں، وہ وہاں جائیں گے۔

انڈیا سوچتا ہے کہ اس قسم کا امن ہو گیا اور پاکستان کی فوج بھی فارغ ہو گئی تو پھر ہماری توجہ سب سے بڑے خطرے کی طرف ہی ہے۔ مغربی سرحد پر کیا ہو گا کیسے سب کچھ کیا جائے گا؟ ایک تو آپ کو بھی اعتماد ہونا چاہئے اور بھارت کو بھی یہ ادراک ہونا چاہئے کہ جب مغربی بارڈر کی بات آتی ہے تو ہمارا سب کچھ ان کیلئے ہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ کوئی بھی ملک اور فوج اپنا پلان پریس کانفرنس یا جلسے میں بتا کر ردعمل نہیں دیتی۔

فوج کی فیصلہ سازی، ہمارا طریقہ کار اور ملک کا طریقہ کار ہوتا ہے۔ منصوبے بنے ہوئے ہیں، ان میں کیا تبدیلیاں کرنی ہیں، ہم یہی کام کرتے رہتے ہیں اور بھارت میں بیٹھے لوگوں کو بھی معلوم ہے۔ عوام کبھی کبھی چاہتی ہے کہ میں یہاں کھڑے ہو کر بتا دوں کہ کیسے کیا جائے گا اور کیا کیا جائے گا۔ کیسے کرنا ہے؟ یہ ہمارے پر چھوڑ دیں، کیا کرنا ہے؟ یہ آپ کو پتہ ہے۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں