ٹیکنالوجی ڈیوائسز بچوں کے ہاتھوں اور انگلیوں کیلئے انتہائی نقصان دہ

بہت زیادہ ٹیکنالوجی ڈیوائسز استعمال کرنے والے بچے اسکول میں پینسل پکڑنے یا قینچی سے کاغذ کاٹنے میں ناکام رہتے ہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ دراصل والدین بچوں کو بوریت سے بچانے اور روتے بچوں کو چپ کروانے کے لیے ان کے ہاتھ میں اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹ پکڑا دیتے ہیں۔ بچے بس انہیں سوائپ یا ٹچ کرتے رہتے ہیں، جس سے ان کی انگلیوں اور ہاتھوں کے کام کرنے کی صلاحیت میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے جو آج سے 10 سال پہلے کے بچوں میں نہیں تھی۔ہارٹ آف انگلینڈ فاؤنڈیشن (این ایچ ایس ٹرسٹ) کی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو بچے لکھنے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے کلاس رومز میں آ رہے ہیں، ان کی انگلیوں کے مسلز صحیح طور پر کام نہیں کر پا رہے۔

اس رپورٹ کی بناء پر برطانوی ماہر امراض اطفال، ٹیکنالوجی کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں، جس کی وجہ سے روایتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں جیسے کہ موتی پرونا، رنگ کرنا یا کاغذ کی کٹنگ سے کرافٹ تیار کرنا یا دیگر ایسی سرگرمیاں جن میں انگلیوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔جوبچے لکھنے اور دیگر سرگرمیوں کے لیے کلاس رومز میں آ رہے ہیں، ان کی انگلیوں کے مسلز صحیح طور پر کام نہیں کر پا رہے ارٹ آف انگلینڈ فاؤنڈیشن این ایچ ایس ٹرسٹ کی پیڈیاٹرک سربراہ اور تھراپسٹ سیلی پائینے کہتی ہیں کہ اسکول میں آنے والے بچوں کو پینسل دی جا رہی ہیں لیکن وہ تیزی سے اس پر گرفت نہیں کرپاتے کیونکہ ان کی انگلیوں میں نقل و حرکت کی بنیادی صلاحیتیں نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بچے کو کھیل کود کی سرگرمیوں جیسے بلڈنگ بلاکس، کاٹنے اور چپکانے والے کھلونے اور رسیاں کھینچنے والے ٹولز دینے سے زیادہ آسان ہے کہ انہیں ٹیبلٹ پکڑا دیا جائے تاہم اس کی وجہ سے بچوں کو وہ بنیادی مہارت نہیں مل رہی جس کی مدد سے وہ پینسل پکڑ کر عمدہ لکھ سکیں یا خوبصورت رنگ کر سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اساتذہ، والدین اور پیشہ ور افراد نے اس طرف توجہ نہ دی تو بچوں کی نشوونما کے ابتدائی مراحل میں یہ عمل ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں