دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے ، سجناں وی مر جانا

عراقی دارالحکومت بغداد کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر راکٹ حملے میں ایرانی القدس فورس کے رہنما قاسم سلیمانی سمیت 7 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ قاسم سلیمانی کو مارنے کا حکم امریکی صدر نے دیا ۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی نے جنرل سلیمانی کی موت پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے راکٹ حملے سے داعش کو کمزور کرنے کا بدلہ لیا ہے۔ وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔یاد رہے گزشتہ کئی روز سے بغداد میں امریکی سفارتخانے کے باہر امریکی فضائی حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے تھے۔ادھر بغداد میں امریکی حملے پر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملہ عالمی دہشت گردی ہے، امریکا کو اس حرکت کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ خطے میں سنگین صورتحال کے سبب ایران میں ٹاپ سیکورٹی باڈی کا فوری اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
عراق کے نگران وزیراعظم نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جارحیت قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکی حملے سے عراق میں تباہ کن جنگ کا آغاز ہو گا ۔ترجمان چینی وزارت خارجہ نے پیغام دیا ہے کہ متعلقہ فریقین بالخصوص امریکا مزید کشیدگی سے بچنے کیلئے تحمل کا مظاہرہ کریں۔مشرق وسطیٰ کی موجودہ جغرافیائی تقسیم اب سے ایک صدی قبل پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کے ساتھ خلافت عثمانیہ کی شکست سے پیدا شدہ حالات میں وجود میں آئی تھی جب فاتح یورپی اقوام نے مشرق وسطیٰ میں خلافت عثمانیہ کے زیر انتظام علاقوں کا بندوبست سنبھال کر بندر بانٹ کے ذریعے مختلف نئی ریاستوں کی تشکیل کی تھی، جس کے نتیجے میں سعودی عرب، عراق، اردن، فلسطین، اسرائیل اور شام وغیرہ کی نئی جغرافیائی سرحدیں دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی تھیں۔ جبکہ مغربی استعمار نے اس موقع پر جہاں دنیا بھر کے یہودیوں کو فلسطین میں آباد کر کے ان کی ریاست ’’اسرائیل‘‘ قائم کرنے کی راہ ہموار کی تھی، وہاں اس خطہ میں اپنی معاشی اور عسکری موجودگی بلکہ بالادستی کا مقصد بھی حاصل کر لیا تھا، ورنہ اس سے قبل مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا حصہ خلافت عثمانیہ کے زیرنگیں تھا اور سیاسی مرکزیت و وحدت کی یہ علامت کسی نہ کسی سطح پر قائم چلی آرہی تھی۔
خلافت عثمانیہ کا خاتمہ اور مشرق وسطیٰ کی ازسرنو جغرافیائی تقسیم نہ صرف عرب دنیا بلکہ پورے عالم اسلام کے خلفشار کا باعث بنے تھے جس کا خمیازہ اب تک امت مسلمہ بھگت رہی ہے اور خمیازے کی اس دلدل سے نکلنے کا مستقبل قریب میں بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔
دوسری طرف عراق میں جھوٹے الزامات کے تحت صدام حسین حکومت کے خلاف مغربی فوجوں کی لشکر کشی اور لاکھوں افراد کے قتل عام کے بعد وہاں امریکہ اور اس کے دیگر اتحادیوں کی سرپرستی میں جو حکومت نوری المالکی کی قیادت میں قائم ہوئی اس کے بارے میں خود امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کو یہ کہنا پڑا ہے کہ وہ انتہا پسند اور فرقہ پرست شیعہ لیڈر ہیں جنہوں نے فوج اور بیوروکریسی سے چن چن کر سنی افسروں کو نکال دیا ہے اور وہ ملکی معاملات میں سنی عوام کی شرکت کو کسی درجہ میں بھی گوارا نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہے کہ عراق میں فوجی مداخلت کے موقع پر انہوں نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی جو حمایت کی تھی وہ ان کی غلطی تھی ۔
بغداد میں امریکی راکٹ حملے میں ہلاک ہونیوالے قاسم سلیمانی سیاسی معاملات سے دور رہتے تھے تاہم عراق اور شام میں ملیشیا کی کارروائیوں کی وجہ سے مشہور تھے۔ ان کا تذکرہ اس وقت شروع ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران سے باہر پراکسی وارز یا درپردہ جنگی کاررائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔
2003 میں امریکا نے جب وہاں برسراقتدار آمر اور ایران کے دیرینہ دشمن صدام حسین کو ہٹانے کے لیے حملہ کیا تو وہاں پر بھی القدس فورس کے اہلکار بھیجے گئے۔ جنرل سلیمانی کے اثر و رسوخ کے بارے میں میڈیا پر رپورٹ کیا جانے لگا جب شامی صدر بشار الاسد کی حمایت کے لیے لڑنے کے ساتھ انہوں نے عراق اور شام میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف کارروائیاں کرنے والی فورسز کو مشورے دینے شروع کیے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق جنرل سلیمانی زیادہ تر ایرانیوں میں مقبول تھے اور انھیں ایک ایسے ہیرو کےطور پر جانا جاتا تھا جو بیرون ملک ایرانی دشمنوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔نائن الیون حملوں حملوں کے بعد شروع ہونے والی افغان جنگ کے دوران جنرل سلیمانی نے طالبان کے ٹھکانوں کی نشان دہی میں امریکہ کی مدد بھی کی۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے سینئر افسر ریان سی کروکر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہوں نے نائن الیون حملوں کے بعد جنیوا میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں جنہیں قاسم سلیمانی نے بریف کیا تھا۔ریان سی کروکر نے اعتراف کیا تھا کہ قاسم سلیمانی کی معلومات پر امریکہ نے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں۔
جنوری 2011 میں ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے قاسم سلیمانی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی اور انہیں زندہ شہید قرار دیا۔قاسم سلیمانی کو مشرقِ وسطیٰ میں فوجی حکمتِ عملی کے حوالے سے ایران کا سب سے طاقت ور رہنما سمجھا جاتا تھا۔ انہیں مشرقِ وسطیٰ میں کے مختلف عرب ملکوں میں سرگرم شیعہ تنظیموں کی معاونت اور ان ملکوں میں ایرانی مفادات کے تحفظ کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا ہے۔امریکہ نے اپریل 2019 میں ایران کی پاسدرانِ انقلاب کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔ اس اقدام کے ردِ عمل میں جنرل قاسم سلیمانی نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات مکمل سرنڈر کے مترادف ہو گا۔
جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بارے میں ماضی میں متعدد بار اطلاعات سامنے آئیں تھیں جس میں 2006 میں ایران کے شمالی مغربی علاقے میں فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد ان کا نام آیا اور اس کے بعد 2012 میں دمشق میں ہونے والے بم حملے کے بارے میں خبریں آئیں کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کے فوجی افسران کے ساتھ اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
2015 نومبر میں ایسی افواہیں بھی سامنے آئیں تھیں کہ وہ حلب میں شامی شہر میں شامی صدر کی شامی فورسز کے ساتھ کارروائیوں کے دوران مارے گئے یا شدید زخمی ہو گئے۔کم گو اور دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے میجر جنرل قاسم سلیمانی ایران کے قدامت پسند حلقوں میں خاصے مقبول تھے۔ لیکن لبرل ایرانی حلقے اور ایرانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد ان کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے ان سے خائف تھی اور اُنہیں ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں اور ایران کو سفارتی محاذ پر درپیش مسائل کا بڑا ذمہ دار سمجھتی تھی۔قاسم سلیمانی کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2018 میں دی گئی دھمکی بھی بہت مقبول ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ سے کہا تھا کہ ہم آپ کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ اتنا قریب کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ جنگ شروع صدر ٹرمپ کریں گے لیکن اس کا اختتام ہم کریں گے۔
مشرق وسطیٰ میں عرب ممالک کے حالات اُمت مسلمہ کے لیے باعث تشویش بنے ہوئے ہیں ۔ امریکا ایک طرف اپنا اسلحہ فروخت کرکے معاشی استحکام حاصل کررہا ہے دوسری طرف وہ مسلم ممالک میں انتشار و افتراق پیدا کرکے مسلمان اُمت کا شیرازہ منتشر کررہا ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت کوئی بھی ایسا رہنما نظر نہیں آتا جو عالم اسلام میں اتحاد و اتفاق پیدا کراسکے۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اس وقت صرف اپنی حکمرانی کا تحفظ عزیز ہے، اس سے آگے ان کی سوچ ہی نہیں رہی۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ایران عراق جنگ میں کس کو فائدہ پہنچا تھا۔ دو مسلم ممالک نے اپنی طاقت کو تاراج و پامال کیا۔ سقوط ڈھاکا میں اغیار کا کردار کوئی دور کی بات نہیں ۔ ماضی کے امریکی کردار سے کوئی بھی لاعلم نہیں، پھر بھی اگر ہم اپنے دشمن کی سازشوں میں شریک ہوگئے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ایران کا مسلم ممالک کے ساتھ رویہ بلاشبہ افسوس ناک ہے لیکن یہ امت مسلمہ کا اندرونی معاملہ ہے، اس میں اگر ہم ایک مرتبہ پھر امریکا کی ڈکٹیشن قبول کریں گے تو پھر ہم اُس کے ’’ڈومور‘‘ کے اسیر بن کر رہ جائیں گے۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو تو دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا لیکن کشمیریوں کے ساتھ بھارت کے مظالم پر اُس کی زبان گُنگ رہی۔بلاشبہ اغیار نے سازشوں کا جال بچھا رکھا ہے، لیکن کیا ہم اتنے ہی فاتر العقل ہیں کہ اُن کی شرارتوں کا ادراک نہیں کر پاتے۔ دہشت گردی کا سرغنہ ملک امریکا اُمت مسلمہ کے اتحاد و یگانگت کے خاتمے کے لیے ہر جگہ اپنا خاص کردار ادا کرتے نظر آتا ہے۔ امریکا کی مسلم عداوت کوئی راز کی بات نہیں اس سب کے باوجود بھی اگر مسلم ممالک نے اپنے اختلافات کو بالا طاق نہ رکھا اور اپنے مسائل باہمی روابط سے حل نہ کیے تو پھر یہ امت مسلمہ کی بدنصیبی ہوگی۔ہمیں شیعہ سنی، بریلوی جیسے فروعی اختلافات سے نکلنے کی ضرورت ہے ، اور صرف یہ سوچنا ہے کہ صدام مارا گیا تھا تو وہ بھی مسلمان تھا ،اور جنرل سلیمانی بھی ایک مسلمان اور دونوں کا قاتل ایک ہی ہے۔صدام حسین اور جنرل سلیمانی کی موت کا جشن منے والوں کے لئے صر ف اتنا ہی ، دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے ، سجناں وی مر جانا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں