چینی صدر کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے طلبا کے خط کا جواب

چین کے صدر مملکت شی چن پھنگ نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے شعبے میں کام کرنے والے دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا اتحاد کی جانب سے لکھے گئے خط پر مسرت کا اظہار کیا اور اس کا جواب تحریر کیا۔اپنے جواب میں صدر مملکت شی چن پھنگ نے نوجوان طلبہ کی جانب سے آب وہوا کی تبدیلی پر ظاہر کئے گئے تحفظات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر شی نے کہا کہ اس مسئلے کا تعلق انسانیت کے مستقبل سے ہے۔

صدر نے کہا کہ انہیں چار دہائیاں قبل، مغربی چین میں سطح مرتفع لوئیس کے ایک گاؤں میں کئی برس تک رہائش پزیر رہنا پڑا۔ اس علاقے میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے قدرتی ماحول کو بہت زیادہ نقصان پہنچا تھا اور وہاں کے لوگ غربت کا شکار ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجربے نے مجھے یہ بات سکھائی کہ انسان اور قدرتی ماحول زندگی کی ایک جماعت کا حصہ ہیں اور ماحولیات کوپہنچے والے نقصان سے آخر کار انسانیت کو تکلیف پہنچے گی۔ اس کے بعد میں نے یہ تصور پیش کیا کہ دریا اور سرسبز پہاڑ اپنے آپ میں ایک انمول اثاثہ ہیں۔چین ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا کر رہا ہے۔ زمین ہم سب کو مشترکہ گھر ہے ہمیں مل جل کر اس کی حفاظت کرنی ہے۔

میں دنیا کی مشہور یونیورسٹیوں کے ڈاکٹریٹ طلباء کی حیثیت سے اس شعبے میں آپ کی سرگرم کاوشوں کا منتظر ہوں۔ میں چین کی ترقی میں آپ کی مستقل دلچسپی اور آپ کی طرف سے زیادہ اچھی تجاویز کا بھی خیرمقدم کرتا ہوں۔واضح رہے کہ مئی 2019 میں چھنہوا یونیورسٹی میں باضابطہ طور پر “ورلڈ یونیورسٹی کلائمیٹ چینج الائنس” قائم کیا گیا۔ یوں دنیا کے چھ براعظموں اورنو ممالک سے تعلق رکھنے والی بارہ یونیورسٹیاں اس اتحاد کی بانی رکن بنیں۔ 17 تا 19 نومبر 2019 چھنہوا یونیورسٹی میں ورلڈ یونیورسٹی کلائمیٹ چینج الائنس گریجویٹ فورم منعقد ہوا۔ اس فورم میں 55 ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کے 150 سے زائد گریجوئیٹس نے شرکت کی۔ اس موقع پرطلبا اتحاد کی جانب سے صدر شی جن پھنگ کو خط لکھا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں