0

موجودہ دہائی چین کی ہے

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے سینئر محقق مارٹن جیکس کا ایک مضمون برطانوی اخبار “دی گارڈین”کی ویب سائٹ پر اکتیس دسمبر دو ہزار انیس کو شائع ہوا۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ پچھلی دہائی چین سے تعلق رکھتی ہے اور موجودہ دہائی میں بھی ایسا ہی ہو گا ۔ انٹرنیٹ صارفین نے سوشل میڈیا پر اس مضمون کے حوالے سے نہایت پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔مضمون کے مطابق 2010 سے چین نے عالمی اندازوں کو نئے طریقوں سے متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں عالمی معیشت کی ترقی کا اصل ذریعہ امریکہ کی بجائے چین رہا ہے۔ اس وقت چین کی معاشی ترقی کا پیمانہ 2010 سے دگنا بنتا ہے ۔ اس تناظر میں مغربی ممالک کے لیے اس کو قبول کرنا بہت مشکل ہے۔

ان کے جذبات بہت پیچیدہ ہیں، کچھ انکار کرتے ہیں ، نفرت اور تنقید کرتے ہیں جبکہ کچھ احترام کرتے ہیں اور چین کی ان کامیابیوں کی تعریف کرتے ہیں۔ چین کی ترقی نے امریکہ اور یورپ میں بقا کا بحران پیدا کردیا ہے اور بحران کا یہ احساس اس صدی میں بھی جاری رہے گا۔مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ دس سالوں کی ترقی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چین تخلیق سے بھری ہوئی معیشت ہے۔ چین میں تحفظ حقوق املاک دانش کے لئے دی گئی درخواستوں کی تعداد 2018 میں دنیا کے کل نصف حصے کے برابر تھیں ۔

مضمون میں 2013 میں شروع ہونے والے دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس انیشیٹو کو عالمی سطح پر چین کا روز افزوں مضبوط ہونے والا اثر قرار دیا گیا ہے۔ مضمون کے مطابق ایک سو سے زائد ممالک نے مذکورہ انیشیٹو میں حصہ لیا ۔ اس طرح کی نمائندگی اور اعتماد امریکہ سمیت کسی بھی دوسرے ملک کو حاصل نہیں ہوا۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی نظام اب” قصہ پارینہ” بننے جا ر ہا ہے ، دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو علامتی نوعیت سے ایک نئے نظم و نسق کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔مضمون کے مطابق نئی دہائی میں مغربی مرکز کا حامل بین الاقوامی نظام زوا ل پزیر رہے گا ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ چین کی رہنمائی میں بین الاقوامی میکانزم کا اثر دن بدن بڑھتا جائے گا۔ یہ ایک ایسا فطری عمل ہے جسے اب روکا نہیں جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں