چین کی جانب سے عالمی نقصان کو کم کرنے کی سعیِ پیہم، سی آر آئی کا تبصرہ

اکتیس دسمبر کو سی آر آئی نے چین کی جانب سے عالمی نقصان کو کم کرنے کی سعی پیہم کے موضوع پر ایک تبصرہ شائع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ دو ہزار انیس میں دنیا میں “اینٹی گلوبلائزیشن” رجحان کے باعث انتظام و انصرام، اعتماد، امن اور ترقی جیسے چار ” نقصانات ” سامنے آئے ہیں۔ دنیا میں دوسری بڑی معیشت کی حیثیت سے اقتصادی عالمگیریت کا تحفظ کرنے اور ان عالمی نقصانات کو کم کرنے کے لئے چین کی بھرپور کو ششیں دنیا کے لئے متاثر کن تھیں۔

مضمون میں کہا گیا کہ دو ہزار انیس میں جامع مشاورت، تعمیری شراکت اور مشترکہ مفادات پر مبنی چین کا پیش کردہ عالمی نظم و نسق کا تصور “انتظامی کمی ” سے نمٹنے کا ایک اچھا طریقہ کار ہے۔ دو ہزار انیس میں چین نے ایشیائی تہذیب و تمدن ڈائیلاگ کانفرنس کا اہتمام کیا، جس سے دنیا کے مختلف ممالک کو تہذیبی تضادات اور دوری مٹانے کے لئے ثقافتی تبادلوں کا موقع فراہم کیا گیا۔ چین نے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر تقریباً تمام سلگتے ہوئے مسائل کے حل اور جزیرہ نما کوریا کے جوہری مسئلے، افغانستان اور شام سمیت دیگر امور میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ چین کا مؤقف ہے کہ انصاف اور رواداری کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسا ترقیاتی نمونہ تشکیل دیا جائے جو متوازن اور جامع ہو، اور دنیا بھر کے لوگوں کو معاشی عالمگیریت کے ثمرات بانٹنے کی اجازت ہو۔

مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر چہ دنیا بھر میں دو طرفہ اور کثیرالطرفہ تعلقات نیز علاقائی صورتحال میں مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن چینی عوام مشکلات پر قابو پاکر نئی ترقی حاصل کر رہے ہیں اور پل پل بدلتی اس دنیا کو یقین اور اعتماد کی قوت فراہم کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں