عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
لیجئے زندگی کا ایک اور سال بیت گیا ۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے۔زندگی کے گزرے ہوئے لمحات کو پکڑ نہیں سکتے ۔لیکن آنے والے لمحات کو بہتر بنا سکتے ہیں ۔یونہی ماہ و سال کی گردش میں عمر تمام ہو جاتی ہے ۔بعض اوقات لمحے گزر کر ہی نہیں دیتے مگر سال گزشتہ کیسے پر لگا کر اڑ گیا خبر ہی نہ ہوئی اور خبر ہوتی بھی کیسے کچھ تو نیا ہوتا ،کوئی بات کوئی خبر ،کوئی واقعہ تو ایسا ہوتا جس کا ہونا 2019کو بیتے ،ان گنت سالوں سے نمایاں کر جاتا ۔وہی پریشانیوں اور آزمائشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا ۔ لاقانونیت،کرپشن ،مہنگائی و غربت کو روئے عوام،بے روزگاری،ناخواندگی اور بحران چاہے وہ ٹماٹر کا ہو ۔2019کی تار تار پوشش پہ چند گنی چنی کامیابیوں کے پیوند لگے ،ماتھے پر ایک دو جھومر سجے کتاب ہست و بود کا ایک اور قیمتی باب بند ہوا ۔یوں تو زندگی برف کی مانند پگھل رہی ہے اور دریائوں کی طرح تیزی سے گزر کر موت کے سمندر میں گر رہی ہے اور ساحل کی ریت کی طرح مٹھی سے پھسل جاتی ہے ۔ سال نو کے موقع پر اگلے سال کے سورج کو دیکھنے کے ساتھ کچھ کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ لمحے حساب مانگتے ہیں ۔
2018ء کی ’تبدیلی‘ اور نئی حکومت کے بعد 2019ء میں بہت سی توقعات تھیں۔۔۔ کچھ کا خیال ہوگا کہ وہ پوری ہوگئیں جب کہ کچھ اس سے اختلاف کریں گے۔
2019ء کا آغاز جہاں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے لیے رہائی کا پروانہ لایا اور 13 فروری کو ان کی ضمانت منظور ہوگئی، لیکن مجموعی طور پر اس برس کافی تابڑ توڑ گرفتاریوں کا سلسلہ رہا، سابق وزیراعظم نواز شریف تو پہلے سے ہی اسیر تھے، پھر چھے فروری 2019ء کو آف شور کمپنیوں کے کیس میں پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان بھی حراست میں لیے گئے۔ چھے فروری کو ’پشتون تحفظ موومنٹ‘ کی کارکن گلالئی اسماعیل بھی گرفتار ہوئیں، 10 جون کو میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف زرداری کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
11 جون کو لندن میں ’متحدہ قومی موومنٹ‘ کے قائد الطاف حسین کو نفرت انگیز تقاریر کے الزام میں کچھ وقت کے لیے حراست میں لیے گئے، پھر اکتوبر میں دوبارہ گرفتار ہوئے، پھر رہا تو ہوگئے، لیکن ان پر فرد جرم عائد کر کے باقاعدہ سماعت اگلے سال تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ 11 جون کو ہی لاہور میں منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کرلیا۔ جعلی اکاؤنٹ کیس میں 14 جون کو آصف زرداری کی ہمشیرہ رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کو گرفتار کرلیا، 19 ستمبر کو سابق قائد حزب اختلاف خورشید شاہ اثاثہ جات کیس میں دھر لیے گئے۔
رواں برس ہمارے ملک کے دو چیف جسٹس اپنے منصب سے رخصت ہوئے۔ 17جنوری 2019ء کو چیف جسٹس ثاقب نثار ریٹائر ہوئے اور جسٹس آصف سعید کھوسہ نئے چیف جسٹس بنے، جسٹس ثاقب نثار نے ہی نوازشریف کی نا اہلی کا فیصلہ سنایا، اور اپنے ریمارکس کی وجہ سے ہمیشہ خبروں میں رہے۔ اس کے بعد 20 دسمبر کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ریٹائر ہوئے اور جسٹس گلزار احمد نئے چیف جسٹس بنے، گویا 2019ء تین چیف جسٹس کا سال رہا۔
19جنوری 2019ء کو ساہیوال میں پولیس نے دہشت گرد قرار دے کر میاں، بیوی خلیل اور نبیلہ، 13 سالہ بیٹی اریبہ اور ڈرائیور ذیشان کو گولیاں مار دیں، جب کہ دو بچے عمر اور منیبہ بچ گئے۔۔۔ پولیس نے الزام لگایا کہ مذکورہ افراد نے گاڑی روکنے کے بہ جائے پولیس پر فائرنگ کر دی، جب کہ بچوں نے بتایا کہ وہ لاہور سے بورے والا رشتے داروں سے ملنے جا رہے تھے کہ راستے میں پولیس نے گاڑی پر گولیاں برسا دیں۔دل دہلا دینے والے اس واقعے نے پورے ملک کے عوام میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی، وزیراعظم عمران خان نے حسب روایت اس کا نوٹس بھی لیا، انصاف دینے کی بہت باتیں ہوئیں، پھر مقدمہ بھی چلا، لیکن 24 اکتوبر 2019ء کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے تمام چھے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔
17 دسمبر کو ملکی تاریخ میں پہلی بار سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو تین نومبر 2007ء میں آئین معطل کرنے کی پاداش میں سزائے موت سنا دی گئی، جس پر فوج نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ کسی صورت میں بھی غدار نہیں ہو سکتے۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار سیٹھ نے لکھا کہ اگر پرویز مشرف پھانسی سے پہلے فوت ہو جائیں، تو ان کی لاش کو تین دن کے لیے اسلام آباد کے ’ڈی چوک‘ پر لٹکا دیا جائے، جس پر ملک بھر کے وہ حلقے جو سزائے موت کی حمایت کر رہے تھے، اپنے تحفظات ظاہر کرنے لگے، حکومت نے اس الفاظ کو جواز بناکر جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کردیا۔
قبل ازیں 25 نومبر کو حکومت کی جانب سے ’پرویز مشرف غداری کیس‘ رکوانے کی درخواست کی، جو مسترد کردی گئی۔ اس کے علاوہ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں یکم نومبر 2019ء کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی تمام جائیداد اور بینک اکاؤنٹس بھی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
19 اگست کو حکومت کی جانب سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کے لیے آرمی چیف مقرر کر دیا گیا۔ 26 نومبر کو عدالت عظمیٰ نے یہ اعلامیہ معطل کر دیا، اس کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم مستعفی ہو کر جنرل قمر باجوہ کی وکیل بنے اور 28نومبر کو عدالت عظمیٰ نے آرمی چیف کی دوبارہ تقرری یا توسیع ملازمت کے لیے قانون سازی کے لیے چھے ماہ کی مہلت دلوائی اور پھر دوبارہ وزیر قانون کا حلف اٹھا لیا۔اور پھر وفاق نے اس فیصلے پر اپیل سپریم کورٹ میں دائر کر دی۔
یوں تو ہم ہر سال ہی بڑھتی ہوئی منہگائی پر شکایت کرتے ہیں، لیکن 2019ء میں منہگائی کی شرح میں گیارہ فی صد اضافہ ہوا۔ 11 جنوری کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے ڈالر کی بڑھتی قیمت کو جواز بناتے ہوئے اعلانیہ طور پر ملک بھر میں 15 فی صد تک ادویات کے نرخ بڑھانے کا اعلان کیا۔
پھر 26 جون کو گیس 190 فی صد اور بجلی ڈیڑھ روپیہ فی یونٹ منہگی ہوئی۔ یہ تو چند ایک اضافے ہیں اور وہ بھی ایسے نرخ جو اعلانیہ بڑھائے گئے، اگر غیر اعلانیہ اضافوں کو دیکھا جائے تو اس کا کوئی شمار ہی محسوس نہیں ہوتا، لیکن اس ’’منہگائی اولمپکس‘‘ میں ’ڈالر‘ سب پر بازی لے جا رہا تھا، لیکن پھر ’ٹماٹر‘ جاگا اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے ڈالر کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔۔۔ 2018ء میں ڈالر نے 105 روپے سے 139 روپے تک کی مسافت طے کی، تاہم اس سال کے دوران اس کے نرخ بہت تیزی سے بڑھے اور 26 جون کو یہ نرخ 164روپے تک بھی جا پہنچے، جب کہ 2019ء میں یہ سطریں لکھے جانے تک 154روپے ہے، یوں ایک سال میں یہ سفر 15 روپے اضافے کا طے ہوا جب کہ نومبر میں ٹماٹر کے نرخ کو پر لگنا شروع ہوئے اور یہ 60 روپے سے بڑھتے بڑھتے 300روپے کلو تک جا پہنچے۔
اسلام کہتا ہے جس کا آج گزرے ہوئے کل سے اچھا ہوگا وہی کامیاب ٹھہرے گا، اسلام غور و فکر، علم و دانائی، مضبوط حوصلہ و مصمم ارادہ، فہم و شعور کا سر چشمہ اور خزانہ و منبع ہے، لہٰذا اپنے اندر احساسِ زیاں پیدا کریں۔آئیں! 2020کا آغاز ازسرِ نو حکمتِ عملی کے ساتھ کریں، کیلنڈر و ڈائری لیں، اپنے معمولات کا شیڈول بنائیں، نئے منصوبے بنائیں، اِن منصوبوں کو ٹارگٹ کے طور حاصل کرنے کی کوشش کریں، چہرے پر روزانہ کی بنیاد پر مسلسل اور مستقل بنیادوں پر مسکراہٹ قائم رکھنے کی پریکٹس کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں