شنگھائی چنگپو جیل کے وارڈن کی برطانوی میڈیا کے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کی تردید

حال ہی میں برطانوی ذرائع ابلاع کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ شنگھائی چنگپو جیل میں قید غیر ملکی قیدیوں کو کرسمس کارڈز بنانے پر مجبور کیا گیا۔ اس حوالے سے چائنا میڈیا گروپ نے شنگھائی چنگپو جیل کے وارڈن لی چھیانگ کا انٹرویو کیا۔انہوں نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیل میں قیدیوں کی صلاحیت کو بلند کرنے کے لئےتعلیم دی جاتی ہے،تاکہ وہ رہائی کے بعدمستقبل میں روزگار حاصل کرنے کیلئے مہارت حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں قیدی اپنی مرضی اور رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں ۔ دوسرا ،اگر جیل میں کوئی قیدی کسی قسم کا کام کرنا چاہتاہو تو اس کیلئے اسے خود درخواست دینی پڑتی ہے ۔جیل کے قیدی جیڈ نقش و نگار ، کڑھائی اور کاغذ سے مختلف اشیا بنانے سمیت متعدد کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ کام کرنے والے قیدی تنخواہ بھی حاصل کرتے ہیں۔ اگر جرمانے میں کوئی کٹوتی نہیں ہوئی تو یہ رقم ریزرو فنڈ کے طور پر استعمال کیا جاتاہے۔اس میں سے کچھ رقم جیل سے رہائی کے بعد نئی زندگی کی شروعات کیلئے دی جاتی ہے ۔کچھ رقم جیل میں روز مرہ ضروریات کی اشیا خریدنے کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں