سنکیانگ کے مسلمانوں کے لیے ہانگ کانگ کے شہری میدان میں آگئے

ہانگ کانگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چینی صوبے سنکیانگ کے مسلمانوں پر چینی حکومت نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ لاکھوں مسلمانوں کو از سرنو تعلیم کے نام پر حراستی کیمپوں میں قید رکھ کر ان پر جنسی و جسمانی تشدد کیا جا رہا ہے اور ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اب ہانگ کانگ کے شہری سنکیانگ کے مسلمانوں پر ہونے والے ان مظالم پر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور احتجاج شروع کر دیا ہے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق ہانگ کانگ میں گزشتہ روز یغور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف ایک ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین پرامن طریقے سے ہاربرفرنٹ کے سامنے اکٹھے ہوئے۔انہوں نے ہاتھوں میں یغور پرچم اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے تاہم ان پرامن مظاہرین پر پولیس پل پڑی اور مرچوں کا سپرے کرکے انہیں منتشر کر دیا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایک مقرر نے کہا کہ ”ہم ان لوگوں کو نہیں بھولیں گے جن کی منزل وہی ہے جس کے لیے ہم تگ و دو کر رہے ہیں۔ ہم بھی آزادی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ بھی۔ ہمیں بھی چینی کمیونسٹ پارٹی پر غصہ ہے اور انہیں بھی، چنانچہ ہم ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف بھی آواز اٹھائیں گے۔“واضح رہے کہ ہانگ کانگ میں جمہوریت پسند گزشتہ 7ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں اور یہ ان کا حالیہ مظاہرہ تھا جو انہوں نے یغور مسلمانوں کے حق میں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں