چین کے صدر شی چن پھنگ کا چین،جنوبی کوریا باہمی تعلقات کے فروغ پر زور

چین کے صدر شی چن پھنگ سے جنوبی کوریا کے صدر مون جائی این نے تیئس تاریخ کو بیجنگ میں ملاقات کی۔جناب شی نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت تحفظ پسندی، یک طرفہ پسندی اور بالادست نظریات سے عالمی نظم و نسق متاثر ہوا ہے جو امن و استحکام کے لیے ایک خطرہ ہے۔ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے چین اپنی ترقی کو عالمی ترقی سے ہم آہنگ کرتا ہے۔چین مختلف ممالک کے ساتھ برابری ، باہمی مفادات، مواقعوں کے اشتراک اور مشترکہ ذمہ داری کی بنیاد پر بنی نوع انسان کے ہم نصب سماج کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے چین-جاپان-جنوبی کوریا کی آٹھویں سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لئے مون جائی این کا خیرمقدم کیا۔جناب شی نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں فریقین کو ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور باہمی دلچسپی کے امور پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

شی چن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین کو دو طرفہ تعاون کے معیار کو بلند کرنا چاہیئے ، “دی بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹو کو جنوبی کوریا کی ترقیاتی حکمت عملی سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور دوسرے مرحلے کے دو طرفہ آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکراتی عمل کو تیز کرنا چاہیئے۔ فریقین کو عالمی امور میں تعاون کو مضبوط بنانا چاہیئے ۔

مون جائی این نے کہا کہ جنوبی کوریا چین کے ساتھ تجارت، ثقافت، ماحولیاتی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی مضبوطی چاہتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہانگ کانگ اور سنکیانگ جیسے معاملات ، چین کے داخلی امور ہیں۔اس موقع پر دونوں رہنماوں نے جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں