مقبوضہ کشمیر میں فوجی محاصرے کو 140 دن ہو گئے

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک ) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ فوجی محاصرے کا آج 140 واں روز ہے، وادی میں لاک ڈاؤن کے تسلسل میں کوئی تعطل نہیں آیا۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن کو 140 دن ہو گئے، مظلوم کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہیں، اشیاے خورونوش کی شدید قلت کا سامنا ہے، وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز مسلسل معطل جا رہی ہیں، جب کہ قابض فورسز کا گھر گھر چھاپے مارنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ روز حریت رہنماؤں میر واعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی کو 21 سال پرانے جعلی مقدمے میں طلب کیا گیا، میر واعظ اور علی گیلانی کو مسلسل نظر بند رکھا جا رہا ہے جبکہ یاسین ملک قید ہیں۔

مقبوضہ وادی میں کاروبار اور تعلیمی ادارے بند پڑے ہوئے ہیں، ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی معطل ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی میں شدید پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ کے ایم ایس کے مطابق بھارتی دہشت گردی سے کشمیری معیشت کو 1 کھرب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچ چکا ہے، کشمیری شدید سردی میں غذائی اشیا اور دواؤں کی قلت کے شکار ہیں، بھارتی فورسزکی زیادتیوں کے خلاف کشمیری صحافی بھی سراپا احتجاج بن چکے ہیں۔

بھارتی فورسز مختلف علاقوں میں نام نہاد سرچ آپریشن کر کے محاصرے کے دوران کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہیں، دو دن قبل بھارتی فوج کی فائرنگ سے راجوڑی میں 3 کشمیری نوجوان شہید ہو گئے تھے، شہید نوجوانوں کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

نظر بند کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق نے مطالبہ کیا ہے کہ نظر بند اور قید کشمیریوں کی فوری رہا کیا جائے۔ بزرگ حریت رہنما علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت کے آخری سپاہی کی واپسی تک کشمیریوں کی جدوجہد جاری رہے گی، یقین ہے آزادی کی جدوجہد کام یاب ہوگی ہے اور بھارت کو شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں