0

بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ’ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے ۔

اب آئیے ذرا تاریخ   کے اوراق کا مطالعہ کرتے ہیں۔بحیثیت مسلمان تاریخ ہمارے  ہاتھ میں قدم قدم پر غداروں کی ایک فہرست تھما دیتی ہے ۔ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے غداروں کا جم غفیر آپ کے  اعصاب پر کوندتی بجلیوں کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے اور بسا اوقات تو یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ ان میں سے اصل غدار کون ہے؟ اب ذرا دیکھئے سقوط بغداد کے بعد سقوط ڈھاکہ مسلمانوں کے سب سے بڑے دکھ کے طورپر سامنے آیا۔ یہ وہ زخم ہے جو ہماری آئندہ نسلوں کے اعصاب پر بھی ستم ڈھاتا رہے گا۔ اسکے غداروں کی فہرست میں بڑے کردار شیخ مجیب الرحمنٰ اور جنرل یحییٰ خان ہیں۔ ہمارے لئے اس سانحہ کے اصل غدار کا تعین بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ مگر حقائق کی روشنی میں غدار کون ہے اور کیسے؟ کا حتمی تعین کرنے سے قاصر ہیں۔ سوال صرف ایک ہے کہ اس مجموعی طرز عمل سے کیا ہم اپنی آئندہ نسلوں کو فکری و عملی ابہام کے سپرد نہیں کر رہے؟ کیا اس طرح ہمارے آنیوالے بچے اپنے قومی و ملی وجود کی تشخیص کر پائیں گے؟تاریخ کے اوراق مرتب کرنیوالوں کا متفقہ طورپر کہنا ہے کہ ہم نے قیام پاکستان کے بعد آج تک جس جس شخص کو غدار قرار دیا‘ اسے بعدازاں نہلا دھلا کر محب وطن بنا لیا۔

آج وطن عزیز میں  پرویزمشرف کوسخت ترین سزا سنائے جانے کا ہر سطح پر چرچاہے، کوئی ان کو محب وطن ثابت کر رہا ہے تو کوئی غدار کہہ رہا ہے  ۔ ملک کے اندر ایک سوچ یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اگر اکتوبر1999کی سازش کامیاب ہو جاتی تو ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ فوج دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں بیٹھی امریکی اور اسرائیلی فوجیں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی مدد سے ہماری عزت اورآزادی کا خاتمہ کر کے شریف آف مکہ کی طرح شریف آف پاکستان کو بادشاہی دے کر خود سیاہ و سفید کی مالک بن جاتیں۔ جنرل پرویز مشرف کا یہ جرم ہے کہ اُس کے محب وطن ساتھیوں نے یہ سازش کامیاب نہ ہونے دی اور ملک کو شریف خاندان کے طے شدہ فتنے و فساد سے بچا لیا۔
افتخار چوہدری کی سازشیں بھی ملک کو تباہی کے دھانے پر پہنچانے والی تھیں۔افتخار چوہدری نے قانون کی پرواہ کیے بغیر شاہانہ پروٹو کول کا استعمال شروع کیا اور گارڈ آف آنر کے علاوہ سربراہ مملکت جیسے اختیارات استعمال کرنے شروع کر دیے۔ افتخار چوہدری کا بیٹا ملک کا ولی عہد بن بیٹھا اور باپ کی پوزیشن کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ۔
افتخار چوہدری نے ریاست کے انتظامی ڈھانچے کو تقسیم کرنے اور ملک میں فسا د برپا کرنے کی کوشش کی تو جنرل پرویز مشرف نے اپنے ساتھیوں کے صلاح مشورے سے ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے افتخار چوہدری کو اُسکے منصب سے الگ کر دیا۔
قانون وآئین کی رو سے جنرل پرویز کا یہ قدم غلط سہی مگر ملک کو فساد اور خلفشار سے بچانے کی کوشش بھی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل مشرف جنرل ضیاء کے بعد سب سے زیادہ عرصہ چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر قائم رہے اور بغیر مارشل لاء کے آٹھ سال تک فوجی حکومت قائم رکھی۔وہ پہلے فوجی ہیں جنہوں نے برملا اپنی کتاب میں پاکستانیوں کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ کرڈالر کمانے کا اعتراف کیاان کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی مسجد پر فوجی حملہ اس طرح کیا جیسے دشمن کیخلاف جنگ لڑ رہے ہوں۔جنرل مشرف نے اس معاشی ترقی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جو نائن الیون کی مرہون منت تھی۔جنرل مشرف نے جس بے ضرر میڈیا کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹا جب وہ ان کیخلاف بولنے لگا تو اس کی زبان بند کردی۔ انکے دور میں لوگوں کو اسلام آباد میں فارم ہاؤس کی شکل میں اربوں کی زمین کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دی گئی، جہاں  جنرل صاحب  نے خود بھی اپنا ایک فارم ہاؤس بنوایا۔جنرل مشرف کے دور میں سب سے زیادہ پاکستانی غائب کردیے گئے۔انہوں نے کراچی کے فسادات کو طاقت کا مظاہرہ قرار دیا۔جنرل مشرف نے صدارت کا عہدہ رکھنے کے باوجود تاریخ میں پہلی بار بطور چیف آف آرمی سٹاف ملک میں ایمرجنسی لگائی اور پھر بعد میں ایمرجنسی اٹھانے کا اختیار صدر کو منتقل کردیا کیونکہ وہ فوج سے ریٹائر ہو کر بطور سویلین صدر بننے جارہے تھے۔صدر مشرف بینظیر اور نواز شریف کو کرپٹ کہہ کر پاکستان واپس نہ آنے کی رٹ لگاتے رہے لیکن آخرمیں انہیں واپس آنے کی اجازت دے کر اپنے ایک اور عہد کو توڑا۔ان کے دور میں پاکستان میں بہت سارے پرائیویٹ کالجز اور یونیورسٹیاں کھلیں مگر تعلیم تک رسائی عام آدمی کی نہ ہوسکی۔ اوسط کے حساب سے تعلیم اور صحت پر بجٹ کا سب سے کم حصہ مختص کیا گیا مگرٹوٹل رقم کی بنیاد پر وہ تعلیم کی ترقی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتےرہے۔ان کے وزیرتعلیم پاکستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے جن کو قرآن کے سپاروں کی تعداد کا علم نہیں تھا اور جو تیس کی بجائے چالیس سپارے سمجھتے رہے۔

ان کی حکومت میں امیروں نے سٹاک مارکیٹ اور پراپرٹی کے کاروبار سے خوب منافع کمایا مگر دوسری طرف غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوا کمی نہیں۔جنرل مشرف کے دور میں پہلی بار غیرملکی افواج نے پاکستانی سرزمین پر بم برسا کر پاکستانیوں کو شہید کیا اور بعد میں انہوں نے سارا الزام اپنے سرلے لیا،اور جنرل مشرف کے دور میں سب سے زیادہ صحافی قتل ہوئے۔ان تمام حالات و واقعات کے با وجودجنرل پرویز مشرف محب وطن سپاہی اور بہترین جرنیل تھا جس کے رُعب ودبدبے سے پاکستان کا ازلی دشمن بھارت آج بھی خائف رہتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے گھر میں کبھی مودی اور جندال نہیں آئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں