0

پڑھتا جا شر ماتا جا ۔۔

24نومبر 2019 کو عظیم سندھو نامی وکیل والدہ کے علاج کے لیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی گیا جہاں دوران علاج وکلاء نے ڈاکٹروں پر لاپرواہی کا الزام لگایا اور اس دوران ڈاکٹرز اور وکلاء کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔اسپتال میں ہاتھا پائی کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔واقعے کے بعد اگلے روز ڈاکٹرز نے اسپتال میں ہڑتال کی اور جیل روڈ پر گرینڈ ہیلتھ الائنس کی جانب سے دھرنا بھی دیا گیا جبکہ وکلاء نے بھی اس دوران ڈاکٹرز کے خلاف احتجاج کیا اور سول سیکرٹریٹ میں گھس کر چیف سیکریٹری کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔پھر وکلاء نے اسپتال کے سامنے احتجاج کیا اور دروازے کھلواکر اندر داخل ہوگئے جس کے بعد دل کا سب سے بڑا اسپتال وکلاء گردی کا نشانہ بنا۔اسپتال میں وکلاء کی توڑ پھوڑ کے بعد پی آئی سی ملازمین اور وکلا میں تصادم بھی دیکھنے میں آیا اور وکلاء نے پولیس گاڑی کو آگ لگا دی ۔

اسپتال ذرائع کے مطابق وکلاء کے حملے کے باعث طبی امداد نہ ملنے پر اسپتال میں زیر علاج 6 مریض دم توڑ گئے، جاں بحق ہونے والوں میں سے ایک خاتون کی شناخت گلشن بی بی کے نام سے ہوئی ہے جو اسپتال میں علاج کرانے آئی تھیں۔صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان پی آئی سی کے باہر پہنچے جہاں وکلاء نے انہیں گھیر لیا اور تشدد کیا تاہم فیاض الحسن چوہان نے بھاگ کر جان بچائی۔ صدر لاہور ہائیکورٹ بار حفیظ الرحمان چوہدری کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں روزانہ لوگ مرتے ہیں، آج بھی مر گئے، پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال میں آج کوئی بھی مریض وکلاء کی وجہ سے جان کی بازی نہیں ہارا۔

وکلا عدلیہ کا ایک اہم حصہ ہیں انہیں طاقت کے بل بوتے پر قانون کو گھر کی لونڈی نہیں بنا لینا چاہئے۔ وکلا کے احتجاج کے باعث اگر عدلیہ آزاد ہوئی ہے تو اس میں سول سوسائٹی کا بڑا حصہ تھا لیکن ان باتوں کو فراموش کر کے بعض وکلاء اپنی اندھی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کبھی گواہان پر تشدد ہوتا ہے تو کبھی مدعی کو زد و کوب کیا جاتا ہے، من پسند فیصلے نہ آنے پر ججز کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ واقعات روزافزوں بڑھتے جا رہے ہیں۔

ثمر ریاض کے ساتھ لاہور احاطہ عدالت میں جس طرح غندہ گردی کا مظاہرہ کیا گیا انتہائی شرمناک فعل ہے۔پولیس آفیسر پرحملہ،سرعام مارپیٹ اور وردی پھاڑنا ،نہ صرف پولیس آفیسرکے ساتھ زیادتی ہے بلکہ محکمہ پولیس کے تقدس کے خلاف اور قابل مواخذہ عمل ہے۔ جب عدالتی حدود میں بھی کوئی محفوظ نہیں ہے تو پھرانصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے سامنے سوالیہ نشان ہے؟ ۔

پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ وکلاء گردی کی اصطلاح سامنے آئی ،کہیں معزز عدالتوں کے جج صاحبان ان کے ہتھے چڑھے اور ان پر جوتے برسائے، کہیں عدالتوں میں پیشی پر پولیس افسران ،کہیں عدالتی اہلکار اور کہیں بد نصیب سائلین وکلاء گردی کا شکار ہوئے۔

عدالت کا سب سے زیادہ وقت وکلاء حضرات سرکاری افسران اور عوام پر جھوٹی اور من گھرٹ پٹیشن دائر کرکے ضائع کرتے ہیں۔قانون کے غلط استعمال ،عدلیہ کو گمراہ کرنے اور عوام کو بلیک میل کرنے والوں کا احتساب کیے بن قانون کی حکمرانی کا خواب ادھورا ہے۔عوام اور اداروں کو بلیک میل کرنے کیلئے جھوٹی پٹیشن دائر کرنے کی ریت کا خاتمہ نہ کیا گیا تو یہاں ہر کسی کو بلیک میل کیا جائے گا، پٹیشن کے بہانے کورٹ بلاکر سرعام لوگوں پر تشد د کیاجائے گا ،احاطہ عدالت میں کسی کو مارا گیا طمانچہ حقیقت میں عدلیہ کو تھپر رسید کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔جھوٹی پٹیشن دائر کرنے والے بلیک میلرز کی حوصلہ شکنی ضروری ہے پٹیشن غلط ثابت ہونے پر وکلاء کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونی چاہئے ۔اکثر وکلاء نے جھوٹی درخواستیں دائر کرنے کیلئے ٹاؤٹ رکھے ہوتے ہیں ۔جس طرح پولیس کا ریکارڈ آن لائن ہوا ہے اسی طرح عدالتی ریکارڈ بھی مرتب ہو کہ کس نے کب ،کہاں ،کیوں اور کس کے خلاف رٹ دائر کی؟۔

ایک صاحب عقل و دانش دوست  نے بہت خوبصورت الفاظ میں وکلاء گردی کا اِحاطہ کیا’’کسی وکیل کو کہیں کہ جناب آپ غلط کر رہے ہیں وہ ایک آپکو ایک تھپڑ لگائے گا۔ آپ سوال کریں گے کہ تھپڑ کیوں مارا تو وہ ایک اور تھپڑ مارے گا اور کہے گا “مجھ سے بدتمیزی کرتے ہو”آپ ابھی تھپڑ سے سنبھلے نہیں ہوں گے کہ گالیاں دیتے ہوئے آپ کے گریبان تک پہنچ جائے گا اور اگراس دوران غلطی سے آپکا ہاتھ خود کو چھڑاتے ہوئے مقدس کالے کوٹ کو چھو گیا تو وہ معزز قانون میں ایک ناقابل معافی جرم گردانا جائے گا‘‘جس ملک میں وکلاء قانون شکن ہو جائیں ،ججز کو گالیاں دیں ،انہیں زد وکوب کر کے کمروں میں محبوس کر دیں اس معاشرے میں انصاف کی امید کیسے کی جاسکتی ہے ۔

وکلاء گردی ،تشدد پسندی اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث وکلاء کی تعداد بہت کم ہے لیکن ان مٹھی بھر وکلا نے فرض شناس اکثریت کی ساکھ بھی خراب کی ہے۔وکالت نہ صرف ایک معزز پیشہ ہے بلکہ دکھی انسانیت کی عظیم خدمت بھی ہے ۔وکلاء کی اکثریت نہایت اچھے اور مہذب افراد پر مشتمل ہے، جو صرف حق کا ساتھ دیتے ہیں اور جھوٹے کا مقدمہ تک نہیں لڑتے، جنہوں نے قانون کی بالادستی کیلئے نہ صرف طویل جدوجہد کی بلکہ عظیم قربانیاں دیں۔

جناب چیف جسٹس گستاخی معاف آپ کو  اپنے گھر میں جھانکنے کی ضرورت ہے،قانون کی پاسداری اور قانون کی وردی میں ملبوس افسران ،ڈاکٹرز اور معاشرے کے دیگر طبقات کو تحفظ دینا آپکی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر تیزی سے بڑھتی ہوئی وکلاء گردی کو لگام نہ ڈالی گئی توسارے ملک میں لاقانونیت کا راج ہوگا اور وکلاء گردی سے تنگ عوام کے پاس ہتھیار اٹھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔جب کسی حقدار کا حق چھین لیا جائے گا یا بے گناہ پر ظلم کیا جائے گا تو اس کے پاس مرنے یا مارنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں