0

امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے،چینی وزارت خارجہ

دس دسمبر کو چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چھون اینگ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پچھتر فیصد امریکی مسلمانوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف بہت زیادہ تعصب پایا جاتا ہے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔امریکہ میں مسلمانوں سےمتعلق پالیسی اور امریکہ کے اندر مسلمانوں کے لیے انسانی حقوق کی صورتحال ، بین الاقوامی برادری کے لیے تشویش اور فکر مند ی کا جواز فراہم کرتی ہے ۔

سات دسمبر کو امریکی فوج کی انڈو پیسیفک کمانڈ کے کمانڈر فلپ ڈیوڈسن نے سنکیانگ، جنوبی بحرِ چین ،علمی اثاثوں کے حقوق اور فائیو جی نیٹ ورک سمیت دیگر موضوعات پر چین کے خلاف بیان دیا ہے۔ دس دسمبر کو چین میں مقیم امریکی سفیر ٹیری ایڈورڈ نے بھی اپنے بیان میں چین کے سنکیانگ میں اقلیتی قومیتوں کا ذکر کیا اور اپیل کی کہ چین میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے متعلقہ افراد کے بیانات سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امریکہ نا صرف آج دنیا میں ایک سپر پاور ہے بلکہ افواہ ساز اور دروغ گو ملک بھی ہے ۔امریکہ کے کچھ افراد چین کے سنکیانگ میں موجود ویغور قومیت کے عوام کے معاملات پر غیر معمولی توجہ دیتے ہیں لیکن شائد وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس دنیا میں امریکہ واحد ملک ہے جس نے مسلمانوں کے خلاف پابندی کا حکم دیا ہے۔حالیہ برسوں میں امریکہ نے انسداد دہشت گردی کا جواز بناتے ہوئے عراق ، شام ، لیبیا ، افغانستان اور دیگر ممالک میں جنگ کی آگ کو بھڑکایا ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں بے گناہ شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں ، متاثرہ تمام ممالک مسلمان ممالک ہیں۔

ہوا چھون اینگ نے مزید کہا کہ امریکہ کی اپنی تحقیقات کے نتائج کے مطابق پچھتر فیصد امریکی مسلمانوں نے کہا کہ امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف بہت زیادہ تعصب پایا جاتا ہے۔انہتر فیصد عام افراد بھی ایسی ہی رائے رکھتے ہیں۔ امریکہ میں مسلمان ہمیشہ سے ہی سب سے زیادہ امتیازی سلوک کا شکار رہے ہیں اور پچاس فیصد امریکی مسلمانوں کا خیال ہے کہ حالیہ برسوں میں امریکہ میں مسلمانوں کے لیے زندگی گزارنا پہلے سے بھی زیادہ دشوار ہوگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں