ہوگئے دنیا سے مسلماں نابود

نائن الیون کے سانحے کا کم از کم یہ فائدہ تو ہوا کہ معمولی سی بصیرت رکھنے والے مسلمان کو بھی امریکی حکومت اور امریکی قوم کی فرعونیت اور سفاکی کا اندازہ ہوگیا۔ ناروے کے شہر اوسلو کے قتل عام کے بعد بھی مسلمانوں کو اندازہ ہوجانا چاہئے کہ اہل یورپ میں بھی اسلام اور اسلامی اقدار سے کتنا بغض بھرا ہوا ہے۔جرمنی کی بھری عدالت میں مسلمان حاملہ خاتون ڈاکٹر مروہ الشہبنی کا قتل ہو یا ڈنمارک کے اخبار میں رسول اللہ کے نعوذ باللہ خاکے بنانے کی گستاخی، فرانس اور بیلجیئم میں مسلمان اقلیت پر ریاستی دہشت گردی، یہ ساری باتیں چیخ چیخ کر اہل یورپ کے اس سیاہ باطن کی نشاندہی کررہے ہیں کہ جو ظلم، بدکرداری اور نسلی و فرقہ وارانہ تعصب کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جو خود سفید فام عیسائیوں نے لکھی اور آج بھی فخر سے پڑھائی جاتی ہے۔
32 سالہ فری میسن آندریس بری وک نے ناروے کی پارلیمنٹ کے باہر دھماکے کے بعد جب اوسلو کے قریبی جزیرے پر مسلمانوں سے تعصب نہ برتنے والی لیبر پارٹی کے نوجوانوں کا قتل عام شروع کیا تو وہ مکمل ہوش و حواس میں تھا۔ بعد میں اس نے خلاف توقع خود کو گولی مارنے کے بجائے اطمینان سے گرفتاری دی تاکہ اب وہ عدالت کے ذریعے یورپ کے مسلمانوں اور انکے گنے چنے حامیوں کو مزید خوفزدہ کرنے کے ساتھ ساتھ اہل یورپ میں اسلام دشمن جذبات کو مزید بھڑکا سکے۔ اس نے یہ بھیانک جرم صرف شہرت حاصل کرنے کیلئے کیا اور عالمی سطح کی شہرت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ وہ یورپی ممالک میں پہلے سے ہی تشدد کا شکار مسلمان کو مزید ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ یورپ اور مغربی دنیا کے اسلام دشمن انتہاپسندوں کو ایک دہشت گرد تنظیم کے قیام کیلئے اکٹھا کرسکے۔ کئی برسوں کی منصوبہ بندی کے بعد اس نے اپنے 1500 صفحات پر مبنی اشتعال انگیز منشور کا نام ڈیکلیریشن آف یورپین انڈیپینڈنٹس 2083 رکھا ہے جس میں ٹیمپلر نائٹس (Templer Knights) یا عیسائی اور صہیونی جنگجوﺅں کو مسلمانوں اور کمیونسٹوں کیخلاف اکٹھا کرنے کی بات کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ ناروے کی 49 لاکھ آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی کم ہے۔ یورپی یونین کے تقریباً 25 ممالک میں مسلمان 3 فیصد سے بھی کم ہیں تو پھر اتنی معمولی اقلیت کیخلاف یورپی حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور خفیہ ایجنسیاں اتنی زیادہ سرگرم کیوں ہیں؟ ان ممالک کی آبادی اپنی آبرو باختہ تہذیب کے سبب شادی اور اولاد کی پیدائش و تربیت جیسے بنیادی فرائض سے کوسوں دور ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی ہو یا فوجی طاقت، زراعت ہو یا بھاری صنعت، کسی بھی اہم شعبے میں کوئی قابل ذکر حیثیت نہ رکھنے والا معمولی سا ملک ناروے صرف مادر پدر آزاد جنسی غلاظت کے بارے میں مشہور ہے مسلم سپین پر قبضے کے بعد مسلمانوں کو یا تو قتل کردیا گیا یا پھر جلاوطن اور آج سپین میں ایک بھی مسلمان نہیں۔ روس نے مسلمانوں کے ملکوں پر قبضہ کیا تو مسلم تہذیب و تمدن کو نیست و نابود کردیا گیا حتیٰ کہ ہر مسجد کو اصطبل یا گودام بنا دیا گیا۔ یوگوسلاویہ کے مسلم علاقے بوسنیا کو اسلام سے اتنا دور پھینک دیا گیا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ نماز یا روزہ کس چڑیا کا نام ہے ۔دوسری جانب مسلمانوں نے 600 برس سپین کے کسی یہودی یا عیسائی کو اسکے مذہب کی بنیاد پر ہاتھ تک نہ لگایا اور مسلم سپین کے کسی بھی گرجا گھر کو کسی دوسرے کام کیلئے تبدیل نہ کیا گیا۔گزشتہ دنوں ناروے میں قرآن کی بے حرمتی نے دنیا بھرکے مسلمانوں کو شدید صدمے سے دوچارکیا۔ پاکستان نے ناروے میں قرآن کی بے حرمتی کے حوالے سے نارویجن سفیرکو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا۔ ملک میں مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کیے گئے اور قرآن مجید کی حفاظت کرنے والے عمر الیاس کو اسلام کا ہیرو ٹھہرایا گیا۔
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کو روکنے والے نوجوان عمر الیاس کو بہادری اور جرأت دکھانے پر سلام پیش کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ’’ ایک افسوسناک اور قابل مذمت کارروائی کو روکنے کے لیے ہمت کا مظاہرہ کیا، ایسی اسلام فوبیا پر مبنی اشتعال انگیزی صرف نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہے۔ تمام مذاہب قابل احترام ہیں۔ اسلام فوبیا عالمی امن اور ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے ۔

یہ وہ غیر مسلم ہیں جو نفرت، تعصب کی بیماری میں اس قدر مبتلا اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں، انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ آسمانی کتاب انجیل مقدس اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کیا پیغام ہے؟ وہ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ قرآن پاک وہ واحد کتاب ہے جو صرف مسلمانوں کے لیے نازل نہیں ہوئی ہے بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ لیکن وہ ماننے والے نہیں ہیں، اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں کو مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔

آج مسلمانوں کی غیرت ایمانی زبانی جمع خرچ کی طرح ہے عمل کچھ نظر نہیں آتا۔ اپنے آپ کو مسلمان کہنا اور کہلوانا پسند کرتے ہیں لیکن قرآن کی تعلیم اور فہم القرآن سے ناواقف ہیں ، بے حد بزدل اور ڈرپوک، ملکوں، شہروں، ضلعوں اور قصبوں میں کچھ بھی ہو جائے ان کی بلا سے، ہم معمول کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں دنیا بھر کے اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت کا بھی یہی حال ہے مسلمانوں کا ساتھ دینے کی بجائے غیروں کو دوست بناتے ہیں اور ان کی تجارت میں حصہ ڈال کر انھیں امیر ترین کرتے ہیں انگریز تو تقسیم سے قبل ہی مغلیہ سلطنت کی دولت، ہیرے، جواہرات اور کوہ نور جیسا نادر ہیرا لوٹ کر لے گئے تھے اور اب انھیں پھر موقع میسر آگیا ہے اور یہود و نصاریٰ کی چالوں اور دلفریب اداؤں کے باعث وہ انھیں فائدہ پہنچا رہے ہیں اور کفار قرآن پاک جیسی مقدس کتاب کی بے حرمتی کرنے میں بھی پیش ہیں۔
عمر الیاس جیسے غیور مسلمان اپنے مذہب سے دل و جان سے محبت کرنے اور حضرت محمدﷺ کی حرمت پر جان قربان کرنے والے بہت کم ہیں۔ مسلمان نہ صرف روزہ، نماز سے دور ہوکر رقص وموسیقی کی محفلوں میں گم ہوگئے ہیں بلکہ سیرت رسول پاکؐ کو بھی بھلا بیٹھے، علامہ اقبال نے ایسے ہی لوگوں کو شرم دلائی ہے:
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
شور ہے، ہوگئے دنیا سے مسلماں نابود
وضع میں تم ہو نصاریٰ‘ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کر شرمائیں یہود

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں