ایڈیلیڈ میں پاکستان کو اننگز اور 48 رنز سے شکست

ایڈیلیڈ میں کھیلے جانیوالے ’پنک بال ‘ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میں پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف اننگز اور 48 رنز سے شکست ہوگئی۔

ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستان نے فالو آن کے بعد اپنی دوسری نامکمل اننگز کا آغاز 39 رنز ، 3 کھلاڑی آؤٹ سے کیا تو وکٹ پر شان مسعود کے ساتھ اسد شفیق موجود تھے۔

چوتھے روز کے کھیل کے پہلے سیشن میں آسٹریلیا نے پہلی وکٹ شان مسعود کی حاصل کی جو اپنی نصف سینچری اسکور کرنے کے بعد 68 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

شان مسعود کی وکٹ 123 کے مجموعے پر گری ، ان کے آؤٹ ہوجانے کے بعد نصف سینچری اسکور کرنے والے اسد شفیق بھی 57 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

افتخار احمد نے محمد رضوان کے ساتھ مل کر کچھ مزاحمت کی لیکن وہ بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 27 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

افتخار کے جانے کے بعد محمد رضوان کا ساتھ دینے کے لیے پہلی اننگ کے سینچری میکر یاسر شاہ کریز پر موجود ہیں اور پاکستان کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے ابھی مزید 69 رنز درکار ہیں جبکہ اس کی 4 وکٹیں ابھی باقی ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ روز فالو آن کا شکار ہونے کے بعد قومی ٹیم نے 287 رنز کے خسارے کے ساتھ اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا، جہاں ایک مرتبہ پھر امام الحق ناکام رہے اور ہیزل ووڈ کی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔

دوسری جانب کپتان اظہر علی کی خراب کارکردگی کا سلسلہ برقرار رہا اور وہ 9 رنز بنانے کے بعد 11 کے مجموعے پر آؤٹ ہوئے۔

پہلی اننگز میں ٹیم کو 97 رنز کا سہارا دینے والے بابر اعظم دوسری اننگز میں صرف 8 رنز ہی بناسکے 20 کے مجموعے پر ایک مرتبہ پھر ہیزل ووڈ کا شکار بنے۔

ایڈیلیڈ اوول میں صف اول کے بیٹسمینوں کی ناکامی کے بعد ٹیل اینڈر یاسر شاہ نے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں کیریئر کی یادگار اننگز کھیل کر پاکستانی بیٹنگ کی لاج رکھ لی تھی۔

ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ گرین کیپس کے لیے ایک اور ڈرائونا خواب ثابت ہورہا ہے جہاں پاکستان کو ایک اور اننگز شکست کا خطرہ ہے۔

ٹیسٹ میں پاکستان کے سب سے مستند بیٹسمین بابر اعظم نے پہلی اننگ میں ذمے داری سے بیٹنگ کی لیکن وہ 3 رنز کی کمی سے سیریز کی دوسری سنچری اسکور کرنے میں ناکام رہے، انہوں نے 97رنز 132گیندوں پر گیارہ چوکوں کی مدد سے بنائے۔

پاکستان کا مکمل ساتھ دینے کے لیے آسٹریلیا نے خلاف توقع ناقص فیلڈنگ کرتے ہوئے کم از کم 6 کیچ ڈراپ کئے، دو کیچ لبو شین اور 2 اسٹیو اسمتھ نے چھوڑے، تاہم ان کے بولرز نے شاندار بولنگ کی۔

ٹیسٹ کے تیسرے روز کھیل کے آغاز میں ہی پاکستان کی یکے بعد دیگرے 2 وکٹ 194 رنز پر گریں، بابر کے آؤٹ ہوتے ہی شاہین شاہ آفریدی بھی بغیر کوئی رن بنائے اگلی ہی گیند پر پویلین واپس لوٹ گئے۔

دونوں وکٹ مچل اسٹارک کے حصے میں آئیں، وہ ٹیسٹ میں 6 وکٹ لے کر نمایاں رہے جبکہ کمنس نے 3 اور ہیزل ووڈ نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

پاکستان کی جانب سے لیگ اسپنر یاسر شاہ نی سب سے زیادہ 113 رنز بنائے، بابر اعظم نے 97 رنز اسکور کیے جبکہ 5 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہوسکے۔

دوسرے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان نے اپنی پہلی اننگ میں 6 وکٹ کے نقصان پر 96 رنز بنالیے تھے اور اسے آسٹریلیا کا 589 رنز کا اسکور برابر کرنے کے لیے مزید 493 رنز درکار تھے جبکہ اس کی 4 وکٹیں باقی تھیں۔

پاکستان کی جانب سے پہلی اننگ کا آغاز روایتی طور پر مایوس کن انداز میں آغاز ہوا اور 91 کے مجموعی اسکور پر ٹاپ 6 بلے باز پویلین لوٹ گئے۔

اوپنر امام الحق نے شان مسعود کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا تو 2 رنز بنا کر امام الحق پویلین لوٹ گئے، ٹیم کا اسکور 22 رنز پر پہنچا تو کپتان اظہر علی بھی 9 رنز بنا کر چلتے بنے۔

شان مسعود کا ساتھ دینے کے لیے بابر اعظم کریز پر آئے تو شان مسعود خود ہی زیادہ دیر بابر کا ساتھ نہ دے سکے اور 38 کے مجموعی اسکور پر 19 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

شان کے جانے کے بعد پہلے اسد شفیق گراؤنڈ میں اُترے مگر وہ بھی ٹیم کے اسکور میں بابر کے ساتھ مل کر 31 رنز کا اضافہ کر سکے اور 9 رنز بنا کر واپس لوٹ گئے۔

افتخار احمد 10 اور وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔

ڈے نائٹ ٹیسٹ کے دوسرے دن آسٹریلوی اوپنر ڈیوڈ وارنر نے اپنی ٹرپل سینچری مکمل کی جس کے بعد آسٹریلیا نے 589 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ پر اپنی پہلی اننگ ڈیکلیئر کردی تھی ۔

ٹیسٹ میں دوسرے دن آسٹریلیا نے اپنی پہلی نامکمل اننگز 302 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی تو اسے ابتداء میں ہی لے بوشین کی وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑگیا تھا۔

لے بوشین 162 رنز اسکور کرنے کے بعد شاہین شاہ کی گیند پر بولڈ ہوگئے اور یوں آسٹریلیا کی369 رنز پر گرنے والی دوسری وکٹ بھی شاہین شاہ کے ہی کھاتے میں آئی۔

وکٹ کے دوسری جانب گزشتہ روز کے ناٹ آؤٹ اوپنر ڈیوڈ وارنر موجود رہے جنہوں نے آج اپنی ٹرپل سینچری اسکور کی، وہ 335 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

آسٹریلیا کی تیسری گرنے والی وکٹ اسٹیون اسمتھ کی تھی وہ 490 کے مجموعی اسکور پر 36 رنز بنا کر شاہین شاہ کا تیسرا شکار بنے، جبکہ میتھو ویڈ 38 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

’’پنک بال ٹیسٹ‘‘ میں آسٹریلوی کپتان ٹم پین نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا، جو ابتداء میں غلط ثابت ہوا اور 8 رنز کے مجموعی اسکور پر اوپنر جو برنس شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر وکٹ کیپر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔

ٹیم پین کے آؤٹ ہونے کے بعد لابوشین میدان میں اُترے اور ڈیوڈ وارنر کے ساتھ مل کر اننگز کو آگے بڑھایا، آسٹریلوی جوڑی کے سامنے پاکستانی بولرز بالکل بے بس نظر آئے۔

دونوں بیٹسمینوں نے اعتماد سے بیٹنگ کرتے ہوئے مزید کوئی وکٹ گنوائے دوسری وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں 294 رنز جوڑ کر مجموعی اسکور 302 رنز تک پہنچادیا، بارش کے باعث دن بھر میں 73 اوور کا کھیل ممکن ہوسکا تھا۔

اس سے قبل جب میچ شروع ہوا تو پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے ابتداء میں ہی 8 کے مجموعی اسکور پر برنز کی وکٹ حاصل کر لی تھی جس کے بعد آسٹریلیا کی جانب سے محتاط بیٹنگ کا مظاہرہ کیا گیا۔

پنک بال سے کھیلے جارہے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان ٹیم میں 3 تبدیلیاں کی گئی ہیں، حارث سہیل، عمران خان اور نسیم شاہ کو ڈراپ کیا گیا ہے، جبکہ موسیٰ خان، محمد عباس اور امام الحق کو اس ٹیسٹ میں موقع دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں