جیرمی کوربن نے برطانوی وزیر اعظم کو امریکی صدر کا چاپلوس قرار دیدیا

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ برطانیہ کی غیر ملکی امور میں مداخلت اور عراق جنگ میں شامل ہونے کے بعد ملک میں انتہا پسندی کو مزید ہوا ملی۔

لندن برج حملے سے متعلق بات کرتے ہوئے لیبر پارٹی کے لیڈر جیرمی کوربن نے برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے بڑا چاپلوس قرار دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی وقت ہے کہ اب برطانیہ کو امریکی صدر کی دُم سے علیحدہ ہوجانا چاہیے۔

جیرمی کوربن کا کہنا تھا کہ برطانوی فوج کی مداخلتوں کی وجہ سے دہشت گردی کے مسائل حل ہونے کے بجائے ان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ واضح طور پر ناکام ہوچکی ہے اور دنیا اب عراق پر ہونے والے حملے کے نتائج بھگت رہی ہے۔

یاد رہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ کے آغاز کے اعلان کے وقت لیبر پارٹی کے ٹونی بلیئر برطانیہ کے وزیراعظم تھے، تاہم جیرمی کوربن نے اس جنگ کی مخالفت کی تھی۔

لیبر پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ اس وقت جب دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری ’دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں، مالی اعانت کاروں اور بھرتی کرنے والوں‘ پر عائد کی جارہی تھیں اس وقت برطانیہ کے حکمرانوں نے سلامتی سے متعلق غلط دعوے کیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کا خطرہ صرف خارجہ پالیسی کے سوالات تک محدود نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کیا جانا چاہیے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے جیرمی کوربن کا کہنا تھا کہ ہر آنے والے حکومت نے ان خطرات کو کم نہیں کیا بلکہ مزید ہوا دی۔

اپوزیشن ممبر کا کہنا تھا کہ 16 سال قبل میں نے عراق پر حملے اور قبضے کی مخالفت کی تھی، میں نے خبردار کیا تھا کہ اس کی وجہ سے تنازع، نفرت، مصائب اور مایوسی کی جڑ پیدا ہوجائے گی جس کی وجہ سے آئندہ نسلوں کی جنگیں، تنازعات، انتہاپسندی اور مصائب مزید بڑھیں گے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہی ہوا اور آج ہم اس کے نتائج میں ہی زندگی گزار رہے ہیں۔

جیرمی کوربن نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مکمل ناکام ہوچکی ہے دوسری جانب شمالی افریقا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں برطانوی فوج کی مداخلت کی وجہ سے مسائل کم ہونے کے بجائے ان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں