انصافیوں کا انصاف

آج اپنے مضمون کا آغاز اپنے محترم دوست نیئرو حیدکے ایک واقعہ سے کرتا ہوں جسکا ذکر انہوں نے چند دن پہلے اپنی وال پر کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ واقعہ کچھ اس طرح ہے جب میں خبریں اخبار میں کرائم رپورٹر تھا اور ضیاء صاحب کے نعرہ صافت برائے خدمت میں نا دن دیکھا نا رات دیکھی نا یہ دیکھا کہ ادارہ تنخواہ نہیں دے رہا تنگی کے دن ہیں پر ہم مظلوم عوام کی خدمت میں جتے ہوئے تھے رات تقریبآ 8 بجے تھے مجھے موبائیل ہر ایک فون ایاجس نے کال کی وہ اڈیالہ جیل میں ایک معمولی الزام میں قید تھا وہ بھی ثابت نا ہو سکا ۔وہ شخص جس کا نام غالبا”محمد نواز تھا مجھےآج بھی یاد ہے چیخ چیخ کر رو رہا تھا اس زمانے میں کیونکہ جیلوں میں جیمرز نہیں تھے اکثر مخبریاں وہاں سے بھی مل جاتی تھیں میں خاموشی سے اسکے چپ ہونے کا انتظار کرنے لگا جب وہ ہچکیوں پر آیا تو میرے پوچھنے پر اسنے بتایا کہ اسکے والد کا جنازہ اڈیالہ جیل کے دروازے پر پڑا ہے وہ صرف ایک دفعہ اپنے والد کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہے اسے سینے سے لگانا چاہتا ہے ایک دفعہ میری مدد فرمائیں پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔اور اپنے بھائی کا نمبر دیا جو رات کے وقت جنازہ آبائی گاوں تدفین کے لئے سوزوکی پک اپ پر لئے انتظار میں تھا میں نے پوچھا کہ بھائی میرے کب انتقال ہوا اسنے بتایا کل رات کو اسے جب پوچھا کہ کیا آپ نے پیرول پررہائی کے لئے دی ہے اس نے بتایا کہ علاقہ مجسٹریٹ کودرخواست دی تھی پر عدالتوں میں ہڑتال کی وجہ سے پیرول کی تاریخ اگلے ماہ کی پڑی ہے ۔۔۔۔۔ میں نے شارٹ کٹ کی کوشش کی اور سپرنٹنڈنٹ جیل کو اس وقت کال کی وہ گھر جا چکا تھا بمشکل تمام اسے ٹریس کرنے میں مجھے مزید آدھا گھنٹہ لگا اور جب اسے کہا تو اس ظالم نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ جیل قوانین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ۔میں نے اسے کہا جناب میں اس ملزم کو جانتا تک نہیں ،لیکن اسکا سگا بھائی جیل سے باہر باپ کی میت لئے انتظار میں بیٹھا ہے ۔آپ سے درخواست ہے کہ یا تو اپنے ملازم اس قیدی کے ساتھ بھیج دیں ،یا سوزوکی جیل کے احاطے میں آنے دیں ۔
پر وہ ڈھیٹ نا مانا اور میں پہلی دفعہ ذندگی میں بے بس ہو گیا اور وہ جو معمولی جرم میں جیل میں قید تھا ہر ممکن کوشش پربھی باپ کا آخری بار چہرہ نا دیکھ سکا۔اب ذرا قصہ تین بار منتخب ہونیوالے وزیر اعظم کے کیس کا۔
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے حکومت کو ان کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کی غرض سے 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے حکومت کو ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔عدالتی ڈرافٹ کے متن میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے 4 ہفتے کا وقت دیا گیا ہے لیکن اگر نواز شریف کی صحت بہتر نہیں ہوتی تو اس مدت میں توسیع ہو سکتی ہے۔متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومتی نمائندہ سفارت خانے کے ذریعے نواز شریف سے رابطہ کر سکے گا۔وفاقی حکومت نے تحریری جواب میں انڈیمنٹی بانڈ کے بغیر نوازشریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کی اور شہباز شریف کی درخواست مسترد کرنے اور انڈیمنٹی بانڈ کی شر ط لاگو رکھنے کی استدعاکی تھی۔حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ نواز شریف کے خلاف مختلف عدالتوں میں کیسز زیر سماعت ہیں، ان کا نام نیب کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ہمارے وزیر اعظم صاحب اور انکی کابینہ کے اراکین متعدد بار کہ چکے ہیں کہ نواز شریف ااور انکی پوری فیملی قومی مجرم ہے ۔ان کو کسی صورت این آر او نہیں دونگا ۔ایک ایک پیسہ وصول کیا جائے گا۔اور پھر ہمارے ہی وزیر اعظم نے حویلیاں موٹر وے سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے رحم آگیا ۔ہمارے ہاں تو جس نے کسی کے پیسے دینے ہوتے ہیں ، توقرض دار جنازہ تک روک لیتے ہیں کہ پیسے واپس کرو۔ نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے فیصلے سے ثابت ہوا کی ان پر جو الزامات لگائے گئے وہ 35 پنکچرز کی طرح مفروضوں پر مبنی تھے،یا آپ نے قوم کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے میاں صاحب کو این آر او دیدیا ہے۔ دونوں صورتوں میں آپ کو قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔
دوسری جانب وفاقی محتسب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں،55 ہزار کی جگہ77 ہزار قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کی ایک سو چودہ جیلوں میں مجموعی طور پر پچپن ہزار کی گنجائش ہے جبکہ ان میں77 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔وفاقی محتسب کی رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب کی42 جیلوں میں سینتالیس ہزار قیدی ہیں جبکہ جگہ کے اعتبار سے صرف بتیس ہزار کی گنجائش ہے۔اس کے علاوہ کے پی میں ساڑھے نو ہزار قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن ساڑھے دس ہزار قیدی موجود ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کی حالت قدرے بہتر ہے۔جیل میں ڈھائی ہزار قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے جہاں دو ہزار اٹھاسی قیدی موجود ہیں سندھ کی جیلوں میں سترہ ہزار قیدی ہیں اور گنجائش صرف تیرہ ہزار کی ہے۔اس میں بیمار کتنے ہیں ، اس کے بارے میں پھر کبھی سہی،لیکن محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق اسوقت دو ایسے قیدی جیلوں میں موجود ہیں جن کو طبی یا انسانی بنیادوں پر رہائی کی ضرورت ہے،ذرا ادھر بھی رحم کھائیےورنہ آوازیں تو اٹھیں گی۔ منٹو نے کیا خوب لکھا تھا۔
کہتے ہیں کہ قانون غریب کا رکھوالاہے، سب جھوٹ کہتے ہیں، یہ قانو ن غریب کا رکھوالا نہیں بلکہ کوٹھَے پر بیٹھی وہ رنڈی ہے جو امیر کو تو میسر ہے ، لیکن غریب کی طرف دیکھنا تو درکنار اس پر تھوکتی بھی نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں