0

چینی صدر کے خطاب کی روشنی میں ہانگ کانگ مظاہروں کے خاتمے کے لیے سمت کا تعین

ہانگ کانگ(مانیٹرنگ ڈیسک )پندرہ نومبر کو ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں قائم مرکزی حکومت کے رابطہ دفتر کے اہلکار کی جانب سے جاری بیان میں ہانگ کانگ کی صورتحال پر چینی صدر شی چن پھنگ کی اہم تقریر کے حوالے سے کہا کہ چینی صدر شی چن پھنگ نے برازیلیا میں برکس ممالک کے رہنماؤں کے گیارہویں اجلاس میں ہانگ کانگ کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے چینی حکومت کے پختہ مؤقف کا اظہار کیا جس سے ہانگ کانگ میں پرتشدد واقعات کے خاتمے اور نظم و نسق کی بحالی کے لیے سمت کو واضح کردیا گیا ۔

پانچ ماہ سے زیادہ عرصے سے ،بڑے پیمانے پر غیرقانونی اور تشدد آمیز مظاہروں ، خاص طور پر حالیہ شدید پرتشدد کاروائیوں سے قانون کی حکمرانی اور معاشرتی نظام پامال کیا گیا ہے ۔ہانگ کانگ کی خوشحالی اور استحکام کو بری طرح مجروح کیا گیا ہے اور “ایک ملک ، دو نظام” کے اصول کی بنیاد کو چیلنج کیا گیا ہے۔ہانگ کانگ کو انتہائی خطرناک صورتحال کاسامنا ہے ۔ امید ہے کہ ہانگ کانگ کے انتظامی و قانون ساز ادارے اور عدلیہ آپس میں تعاون کرتے ہوئے ان فساد برپا کرنے والے عناصر کے انسداد میں پہل کریں گے ۔ امید ہےکہ سماجی برادری کے تمام شعبے اور عام عوام ہمت و حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے تشدد کے سد باب اور معاشرتی نظم ونسق کی بحالی کے لیے عوامی رائے اور سماجی قوتوں کی مضبوط آوازوں کو متحد کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کریں گے۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت کی مکمل حمایت سے ہانگ کانگ میں ہر طبقہِ زندگی مشکلات پر قابو پانے ، نظم و نسق بحال کرنے ، ہانگ کانگ کے ساڑھے سات ملین شہریوں کے گھر کی حفاظت کرنے ، اور “ایک ملک ، دو نظام” کی پالیسی کو مستحکم طور پر برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں