0

ایف بی آر کے نوٹسز کا خوف، ایک ماہ میں بینکوں سے 711 ارب روپے نکلوالیے گئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک): فیڈرل بورڈآف ریونیو کے نوٹسز کے خوف سے کمرشل بینکوں کے ڈپازٹس میں سے ایک ماہ کے دوران 711 ارب روپے نکلوا لیے گئے جب کہ سب سے زیادہ کمی کنسٹرکشن سیکٹر والوں کے ڈپازٹس میں دیکھی گئی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے ماہ کے دوران کمرشل بینکوں کے ڈپازٹس میں موجود رقم میں مجموعی طور پر 710 ارب 95 کروڑ 20 لاکھ روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور ڈپازٹس کا مجموعی حجم 137 کھرب 47 ارب 35 کروڑ روپے رہ گیا۔ایک ماہ میں بینکوں میں کنسٹریکشن سیکٹر والوں کے ڈپازٹس میں تقریبا 15 فیصد، مینوفیکچرنگ سیکٹر کے ڈپازٹس میں 9.5 فیصد، اور کامرس اور ٹریڈ والوں کے ڈپازٹس میں 5 فیصد کمی دیکھی گئی۔جولائی کے دوران کنسٹرکشن سیکٹر والوں کے ڈپازٹس میں سے 45 ارب روپے نکلوائے گئے اور ان کا حجم 260 ارب 69 کروڑ روپے رہ گیا۔: فیڈرل بورڈآف ریونیو کے نوٹسز کے خوف سے کمرشل بینکوں کے ڈپازٹس میں سے ایک ماہ کے دوران 711 ارب روپے نکلوا لیے گئے جب کہ سب سے زیادہ کمی کنسٹرکشن سیکٹر والوں کے ڈپازٹس میں دیکھی گئی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے ماہ کے دوران کمرشل بینکوں کے ڈپازٹس میں موجود رقم میں مجموعی طور پر 710 ارب 95 کروڑ 20 لاکھ روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور ڈپازٹس کا مجموعی حجم 137 کھرب 47 ارب 35 کروڑ روپے رہ گیا۔ایک ماہ میں بینکوں میں کنسٹریکشن سیکٹر والوں کے ڈپازٹس میں تقریبا 15 فیصد، مینوفیکچرنگ سیکٹر کے ڈپازٹس میں 9.5 فیصد، اور کامرس اور ٹریڈ والوں کے ڈپازٹس میں 5 فیصد کمی دیکھی گئی۔جولائی کے دوران کنسٹرکشن سیکٹر والوں کے ڈپازٹس میں سے 45 ارب روپے نکلوائے گئے اور ان کا حجم 260 ارب 69 کروڑ روپے رہ گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں