برکس ممالک کے رہنماوں کے گیارہویں اجلاس سے چینی صدر کا خطاب

برازیلیا(مانیٹرنگ ڈیسک )برکس ممالک کے رہنماوں کا گیارہواں اجلاس چودہ نومبر کو برازیل کے دارالحکومت برازیلیا میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چین، روس، برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ کے رہنماوں نے “معاشی ترقی سے تخلیق پر مبنی مستقبل کے قیام’ کے موضوع پر برکس ممالک کے مابین تعاون، مشترکہ دلچسپی کے امور نیز اہم بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور وسیع پیمانے پر اتفاق رائے کا حصول ہوا۔

شی چن پھنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ برکس ممالک کو اپنی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے کثیرالجہتی پر عمل درآمد کر تے ہوئے سلامتی کے پرامن اور مستحکم ماحول کے قیام کے لئے مشترکہ کوشش کرنی چاہیئے۔ اس کے علاوہ اصلاحات اور تخلیق کے موجودہ مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برکس ممالک کے مابین نئے صنعتی انقلاب کے شراکت داری تعلقات کو آگے بڑھایا جائے۔ باہمی تجربے و تقلید کے ذریعے افرادی و ثقافتی تبادلوں کو فروغ دیا جائے گا۔

شی چن پھنگ نے کہا کہ غیر مستحکم عالمی صورتحال کے تناظر میں برکس ممالک کو تعاون کرتے ہوئے عوام کی خوشحالی اور دنیا کی ترقی کے لئے اہم کردار ادا کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ چین کھلے پن کو توسیع دے گا اور خود مختاری کی پرامن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔

اس دن برکس ممالک کے رہنماوں نے بند کمرے کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں شی چن پھنگ نے کہا کہ کوئی بھی ملک عالمی سطح پر لیڈر بننے کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی ترقی کا کوئی نمونہ دوسرے سے برتر ہوتا ہے۔ عالمگیریت کے دور میں ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کچھ لوگ دوسرے ممالک کے لوگوں کی مخالفت کریں۔ درست طریقہ یہ ہے کہ تمام لوگوں کو ایک دوسرے کے لئے خوشحالی کا باعث ہونا چاہیئے۔ کثیرالطرفہ پسندی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بین الاقوامی امور کے حل کے لئے تمام لوگوں کومشاورت کرنی چاہیئے اور فیصلہ کسی ایک ملک یا چند ممالک کے ذریعے نہیں ہونا چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں