بھائی مردانہ روڈ

کرتارپور راہداری کے افتتاح کے بعد اب روزانہ5 ہزار سکھ یاتری گورودوارہ دربار صاحب کی یاترا اور وہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے۔ یہ شاندارمنصوبہ خطہ میں قیام امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر شروع کیا گیا اوراس کیلئے فنڈز مکمل طور پر پاکستان نے فراہم کئے ہیں اور یہ سکھ برادری کیلئے ایک تحفہ ہے۔حکومت پاکستان نے تقریبا 800 ایکڑ اراضی حاصل کرکے گوردوارہ کی انتظامیہ کو تحفہ کے طور پر دی ہے اس میں سے 42 ایکڑ اراضی گوردوارہ کمپلیکس کی تعمیر کیلئے مختص کی گئی ہے جبکہ 62 ایکڑ اراضی لنگر خانہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہو گی۔ کمپلیکس کے احاطہ میں ایک میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں پر سکھ برادری کے مذہبی رہنماں کی تصاویر اور سکھ مذہب کی تاریخ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے 12 بستروں کا ہسپتال بھی قائم کیا گیا ہے۔ کمپلیکس کے اندر سکیورٹی کی صورتحال پر نظر رکھنے کیلئے تقریبا 250 کیمرے نصب کئے گئے ہیں جبکہ 1500 اہلکار یاتریوں کی سہولت کیلئے فرائض انجام دیں گے۔ یاتریوں کی سہولت کیلئے منی ایکسچینج آٹ لیٹ اور سووینیئر شاپس بھی قائم کی گئی ہیں۔ باباگورنانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کیلئے آنے والے سکھ یاتریوں نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کا یہ احسان کبھی نہیں بھلا سکتے، دنیا میں بسنے والے ہر سکھ کے دل میں گورو دھرتی کی محبت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور ہر کوئی کرتارپور یاترا کیلئے بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کیلئے کسی جنت سے کم نہیں، کرتارپور صاحب کے درشن کرکے آنکھوں کو سکون محسوس ہو رہا ہے، اتنی قلیل مدت میں ہونے والے شاندار تعمیر دنیا میں کسی عجوبے سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو جو مذہبی آزادی حاصل ہے وہ کسی دوسرے ملک میں نہیں، سکھوں کیلئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کاوشوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔550 ویںجنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری سکھوں کیلئے ایک انمول تحفہ ہے، ہمارے تمام گوردواروں کو سجایا گیا ہے جبکہ گوردوار جنم استھان کی خوبصورتی دیدنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیار و محبت بانٹے میں پاکستان اور مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں۔
کرتارپور گردوارے کی اہمیت کیا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ سکھ مذہب کے بانی، گرو نانک سنہ 1522 میں کرتار پور آئے تھے اور اپنی زندگی کے آخری 18 برس انھوں نے یہیں بتائے تھے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ جس جگہ گرو نانک دیو کا انتقال ہوا تھا وہیں پر گردوارا تعمیر کیا گیا تھا۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرتارپور راہداری سے متعلق کیا معاہدہ طے پایا ہے؟کسی بھی مذہب سے منسلک انڈین شخص بغیر ویزا کہ کرتارپور جا سکتا ہے۔
یہ راہداری سارا سال کھلی رہی گی۔
انڈین وزارت خارجہ انڈین یاتریوں کی فہرست پاکستان کو ان کے سفر سے دس روز قبل دے گی۔
ہر یاتری کو 20 ڈالر کی فیس ادا کرنی ہوگی جو کہ تقریبا 1400 انڈین روپے بنتے ہیں۔
روزانہ 5000 یاتری اس راہداری کو استعمال کر سکتے ہیں۔
فی الوقت ایک عارضی طور پر تعمیر کیا گیا پل استعمال ہو رہا ہے لیکن آنے والے وقتوں میں ایک مستقل پل قائم کیا جائے گا۔
یاتریوں کو سفر کرنے کے لیے خود کو ویب سائٹ کے ذریعے رجسٹر کرانا ہوگا جس کے بعد ان کی درخواست کی منظوری کی خبر انھیں چار دن میں دی جائے گی۔
کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کی زمین ہندوئوں کے حوالے کرنے کا متعصبانہ فیصلہ سنایا جارہا تھا۔ اس طرح ایک طرف دنیا بھر میں سکھ مذہب کے ماننے والے کرتارپور راہداری کے افتتاح اور بھارتی ہندو، بابری مسجد کی زمین پر رام مندر کی بنیاد رکھے جانے کا جشن مناتے نظر آئے تو دوسری طرف بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر برصغیر کے مسلمان ماتم کرتے نظر آئے۔ بھارتی عدلیہ کے فیصلے سے ایک ہی دن میں دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستان نے جہاں بھارتی سکھ اقلیتوں کو گرونانک مزار کیلئے اپنی سرزمین پر راہداری فراہم کی، اسی دن بھارت میں مقیم مسلمانوں پر زمین تنگ کردی گئی۔
کرتارپور راہداری کو ایک سال کی کم ترین مدت میں مکمل کیا گیا ہے جس پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں جس کا کریڈٹ ریاست مدینہ کی دعویدار تحریک انصاف کی قیادت کو جاتا ہے یقینا دین اسلام دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کا احترام درس دیتا ہے۔
مگرکیا یہ مناسب ہے کہ میرے ملک میں مساجد غیر محفوظ خستہ حالی کا شکار ہوں ہمارے دینی مدارس خستہ حالی اور بہتر نظام سے محروم ہوں ہمارے سرکاری اسکولوں کی حالت پر صرف افسوس کیا جائے اس ملک کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سیاست کی جائے اور اس کا بجٹ کرتارپور راہداری پر خرچ کر دیا جائے بجلی کے ناقص نظام سے میرے ملک کے معصوم لوگوں کی زندگیاں ختم ہوجائیں مگر کر تارپور میں بہترین بجلی کا نظام چلتا رہے میں اپنے ہی ملک میں بغیر شناختی کارڈ کے سفر سے محروم کر دیا جائوں مگر بھارت سے کرتارپور آنے والے افراد بغیر پاسپورٹ کے میری ملک کی سر زمین میں داخل ہوجائیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے۔ انڈیا کا میڈیا مولانا کا آزادی مارچ دکھائے تو مولانا پر غداری کا الزام اور بھارتی میڈیا جب کرتارپور راہداری کا افتتاح دکھائے جس کو مودی بھارت کی فتح قرار دے تو اس کو کیا کہا جائے۔
مولانا آزادی مارچ کا اعلان 27 اکتوبر کو کرتے ہیں تو اس کو کشمیر کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے کیا کپتان کو 9 نومبر کی تاریخ یاد ہے 9 نومبر وہ دن ہے جب بھارتی فوج نے ریاست جونا گڑھ پر قبضہ کر کے اسے بھارت میں شامل کر لیا تھا جبکہ جونا گڑھ پاکستان میں شمولیت کا پہلے ہی اعلان کر چکا تھا۔ ہمارے ارباب اختیار کے یہی وہ رویے ہیں جن سے آج ہم دنیا کی نظروں میں بے وقعت ہیں کیوں کہ ہم نے کبھی اپنے جائز مطالبات پر دبنگ انداز اپنانے کی جرات نہیں کی سو دن گزر گئے کشمیر کرفیو کی زد میں ہے خواتین بچے بزرگ بھوک پیاس علاج سے محروم ہیں اور وزیر اعظم پاکستان بھارتی سکھ برادری کے ساتھ کرتار پور کی فتح کا جشن منا کر کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کی ناکام کوشش کر رہے
ہیں۔ خان صاحب جب آپ پانچ سالہ اقتدار مولانا کو استعفے کی شکل میں پلیٹ میں رکھ کر پیش کرنے کو تیار نہیں تو پھر آپ بھارتی انتہا پسند سرکار سے کیسے امید رکھتے ہیں کہ وہ کشمیر آپ کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دے گا۔ جب آپ کے استعفے پر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام ہوسکتے ہیں تو کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات سے کیسے حل ہوسکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

بھائی مردانہ روڈ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں