0

ای – کامرس سے بین الاقوامی تعاون کو فروغ ملتا ہے

شنگھائی(مانیٹرنگ ڈیسک )چین کی دوسری بین الاقوامی درآمدی ایکسپو شنگھائی میں جاری ہے۔ غیر ملکی کاروباری اداروں کی رائے میں آج کل کا سب سے مقبول رحجان ای کامرس چینی منڈی میں داخلے کا اہم ذریعہ ہے۔ ای کامرس عالمی تجارت کے نئے عہد میں داخلے کو آگے بڑھارہا ہے۔

ایکسپو کے دوسرے دن پر بہت سے غیر ملکی کاروباری اداروں نے بہت سے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں ۔ امریکہ کے جانسن اینڈ جانسن گروپ چینی ای کامرس جائنٹ علی بابا گروپ کی ذیلی کمپنی لزادہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کا معاہدہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔نیوزی لینڈ ، چلی ، سنگاپور ، ملائیشیا ، فلپائن ، روس ، پیرو اور ارجنٹائن سمیت دس ممالک نے اعلان کیا کہ وہ علی بابا کے ٹی مال میں اپنے قومی فلیگ شپ اسٹور کھولیں گے۔

بہت سارے غیر ملکی کاروباری ادارے ، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے چین کی ای کامرس ایکسپریس ٹرین کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ ہنگری کے وزیر امور خارجہ اور بیرونی تجارت ژی جارتو پیٹر نے کہاکہ ای کامرس کے ذریعے سرحد پار تجارت کو فروغ دینے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں اور غیر ملکی منڈیوں میں داخلے کی لاگت کو کم کیا جاسکتا ہے۔

لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر اور اقتصادیات کے نوبل انعام یافتہ پروفیسر کرسٹوفر کا خیال ہے کہ حال ہی میں تجارتی تحفظ پسندی میں ہونے والے اضافے کا نا صرف چین بلکہ یورپ کی برآمدات پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔لیکن ای کامرس پلیٹ فارم کا کردار تجارت کے کچھ اخراجات کو پورا کرسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں