0

جاگتی آنکھوں کے خواب

جب بھٹو کو پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو اس نے کہا تھاکہ بند کرو یہ ڈراما۔ جہاں بھٹو کو قتل کرنے یا عدالتی قتل کرانے کا کام ضیاء الحق نے کیا وہیں بھٹو کو زندہ رکھنے کا کریڈٹ بھی ضیا الحق کو جاتا ہے جس کے اقتدار کی لمبائی بھٹو کی موت سے مشروط تھی،کیونکہ ضیاء کو یہی یقین دلایا گیا تھا۔ جنرل ضیا کی خواہش تھی کہ بھٹو کو قانونی طریقے سے مارا جائے اور قانون کی بالادستی قائم ہو جائے،اور انکی اسی خواہش نے دراصل بھٹو کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔جنرل ضیاء بھٹو کو مارنا چاہتے تھے،کیونکہ وہ بھٹو کواپنے اقتدار کی راہ کا کانٹاسمجھتے تھے لیکن اس کی موت کا الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتے تھے۔
پاکستان میں چیف آف آرمی سٹاف کی نامزدگی سیاستدان سربراہ مملکت کے لئے بہت بڑا امتحان ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ آرمی چیف تقرر کرنے کا اعزاز نواز شریف کو حاصل ہے ۔بھٹو جس کی نظر پاکستان کے عوام کی نبض پر تھی، ضیا الحق کی آنکھ میں چھپی اقتدار کی چمک نہ دیکھ سکا۔ عین اس وقت جب بھٹو اور پی این اے کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز ہونے لگے۔عین اس وقت  اقتدار کا گھناونا کھیل کھل کر پاکستان کی جڑوں میں ہیروئین کا پانی ڈال دیا گیا۔ بھٹو جو بھی تھا۔ اس کا تاریخی کردار اچھے اور برے نمونوں سے بھرا پڑا ہے۔ملک اس وقت اندرونی خلفشار سے اٹا ہوا تھا،اچانک جنگ ہوئی اور ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ ہمارا ہیرو، ہمارا جمہوری چیمپئین ملک کو دولخت کرنے کی راہ ہموار کرتا رہا۔ اقتدار اس کی منزل تھی، اقتدار اسے مل گیا۔ بھٹو چیف سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گیا۔ جیسے جیسے اس کا اقتدار مضبوط ہوتا گیا ویسے ویسے اس کا جمہوری رویہ ختم ہوتا گیا۔ جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت قائم ہوئی، سیاسی مخالف قتل کئے جانے لگے۔ ہمارا جمہوری خواب چکنا چور ہوگیا۔ ہمارا ہیرو ولن بن گیا۔ ایوبی آمریت میں جو صنعتی ترقی ہوئی تھی وہ رک گئی۔ غربت ملک کے دروازے پر ناچنے لگی۔
77 کی بھٹو مخالف تحریک چلی ،روزانہ جلوس نکلتے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں گرفتاریاں ہوتی تھیں۔ بھٹو کی بنائی فیڈرل سیکیورٹی فورس کی نہتے شہریوں پر اندھادھند گولیاں برساتی اور سڑکوں پر جا بجا بے گناہوں کا  بہتا خون نطر آتا۔ وہ خواب جو عوام نے بھٹو کے ساتھ مل کر ایوبی آمریت ختم کرنے کے لئے دیکھے تھے وہ تو زندہ بھٹو نے چکنا چور کر دیے ۔اس کے بعد خواب تو نہ دیکھے۔ جو بھی دیکھا جاگتی آنکھوں نے دیکھا۔ بھٹو کی عدالتوں میں پیشی، گرفتاری، جھوٹے گواہ، نا انصاف عدالتیں، بے رحم جیلیں اور ظالم جیلر، بے ضمیر معاشرہ اس ظلم پر خاموش تماشائی بنا رہا۔ بھٹو خاندان جیل کی سختیاں برداشت کرتا رہا اور جمہوریت اور اسلام کے ٹھیکیدار ضیا الحق کی وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے۔ نہ کسی کو جمہوریت کی فکر ہوئی نہ اسلام کی۔ ایسا اسلام لایا گیا جس کا نظام مصطفے سے کوئی تعلق نہ تھا۔ضیا الحق نے اسے پھانسی دے کر اس کے کردار کے تمام منفی پہلو دفن کرکے اسے ایک اجلا اور نکھرا ہوا کردار بنا دیا ہے۔ یہ بھی تاریخ کا جبر ہے۔ اقتدار اور اس سے بڑھ کر اقتدار کو طول دینے کی خواہش حکمرانوں کو غلاظت کے اس ڈھیر پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں بدبو کا راج ہوتا ہے۔ بھٹو کو پھانسی گھاٹ تک پہنچانے میں ایک نہیں سینکڑوں ضیا الحق درکار تھے۔ تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے ضیا الحق تفتیشی افسروں سے لے کر مسعود محمود جیسے وعدہ معاف گواہوں اور نسیم حسن شاہ جیسے ججوں تک مشتمل ہوتی ہے۔ تارا مسیح تو ایک خادم کا نام ہے جس نے گلے میں پھندا ڈالنا ہوتا ہے۔زمانہ انسان کو کیا کیا دکھاتا ہے۔ کیسے کیسے خواب ہماری آنکھوں میں اترتے ہیں جن کے خمار ٹوٹنے کا نام نہیں لیتے۔ پھر یہی خواب چکناچور ہوتے ہیں تو ان کی کرچیاں جڑنے کا نام نہیں لیتیں۔ ایسا ہی خواب سندھ کے غریب ہاریوں کو دکھایا گیا، اور پھر وہاں تپتے صحرا میں موت رقص کرتی رہی اور بھٹو ہمیشہ کے لئے  زندہ ہو گیا۔
عمران خان کو کرکٹ کا شوق نہیں جنون تھا۔ زمانہ طالبعلمی میں کرکٹ کا شروع ہونے والا سلسلہ پاکستان ٹیم کی قیادت تک پہنچا۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں عمران خان کا آغاز متاثر کن نہیں تھا۔ پہلا ٹیسٹ ہو یا پہلا ون ڈے، عمران خان نہ صرف وکٹ سے محروم رہے بلکہ بلے بازی کے جوہر بھی نہ دکھا پائے۔ 1987 کے عالمی کپ کے بعد عمران خان نے قومی ٹیم کی کپتانی چھوڑتے ہوئے کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا۔لیکن اسوقت کے صدر جنرل ضیاء الحق کی درخواست پر عمران خان نے 18 جنوری 1988 اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے، دوبارہ کر کٹ ٹیم جوائن کر لی اور پھر وہ وقت آیا، عمران خان پاکستان ٹیم کے کپتان بنے۔1992 میں عمران خان نے ایک نوجوان ٹیم کے ساتھ کرکٹ ورلڈ کپ جیت کر دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچا دیا۔ وہ ٹیم جو پہلے رائونڈ سے آگے نہیں پہنچ پا رہی تھی، اس نے بڑے بڑے برج الٹ دئیے۔ورلڈ کپ جیت کر عمران خان قومی ہیرو بن گئے۔ لوگ ان کی جھلک دیکھنے کو بیتاب رہتے تھے۔اگر ضیا الحق 1988 میں عمران کو کرکٹ ٹیم میں واپسی پر مجبو رنہ کرتے تو وہ باقی کرکٹرز کی طرح تاریخ کے اوراق کی دبیزتہہ میں گم ہوجاتے ،لیکن ضیاء الحق کے ایک فیصلے نے عمراں خان کو بھٹو کی طرح زندہ و جاوید کر دیا۔
 عمران چاہتے تھے کہ اس قوم کے لئے کچھ کیا جائے۔ تو انھوں نے ارادہ کیا کینسرہسپتال بنانے کا، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو۔ لوگ کہتے تھے یہ ہو نہیں پائے گا لیکن عمران ہمت نہ ہارے اور اپنے عزم پر ڈٹے رہے۔ شوکت خانم ہسپتال نہ صرف پاکستان کا واحد بلکہ سب سے بڑا کینسر ہسپتال بنا۔کرکٹ سے فراغت کے بعد عمران خان کا سیاست میں آنے کا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا، پر جب انھوں نے ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال دیکھی، تو ٹھان لی کہ ملک کو سدھارنا ہے۔ اس ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ہے۔ ملک میں انصاف لانا ہے۔اور عمران خان نے 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔پھر وہی ہوا جو ان کے ساتھ ہوتا آرہا تھا۔کپتان کو شدید مشکلات کا سامنا ہوا۔1997 کے عام انتخابات میں ان کی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہ ملی۔عمران نے ہمت نہ ہاری۔2002 کے انتخابات میں عمران خان صرف اپنی سیٹ ہی جیت سکے۔عمران خان نے 2008 میں آمریت کے زیرسایہ ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔عمران خان رکے نہیں، تھمے نہیں، جدوجہد جاری رہی۔
30اکتوبر 2011 لاہور مینار پاکستان پر ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف نے سیاست کے بڑے بڑے سورمائوں کو حیران پریشان کر دیا۔ تحریک انصاف پاکستان کی نئی سیاسی قوت بن کر ابھری۔ پھر 2013 کے دھاندلی زدہ انتخابات ہوئے۔ عمران خان نے الیکشن تو قبول کرلیا لیکن نتائج ماننے سے انکار کر دیا۔ عمران خان نے دھاندلی کیخلاف ہر آئینی اور قانونی دروازے پر دستک دی۔ جب داد رسی نہ ہوئی تو دھرنے کا اعلان کر دیا۔14 اگست 2014 کوعمران خان نے آزادی مارچ کی قیادت کی اور اسلام آباد میں 126 دن کا دھرنا دیا۔ دھرنے نے عمران خان کے حوصلے کو مزید تقویت بخشی۔
پھر یوں ہوا کہ پانامہ آیا۔ معلوم ہوا کہ حکمرانوں نے عوام کا پیسہ کھایا۔ عمران خان نے بیڑہ اٹھایا۔ کرپٹوں کو تخت سے ہٹایا۔ رلایا، تڑپایا اوربا لآخر جیل پہنچایا دیا اور پھر وہ دن آگیا۔ 25 جولائی 2018 عمران خان کی جدوجہد، محنت، کوشش، ثابت قدمی کا پھل ثابت ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔ آج عمران خان وزیراعظم پاکستان ہیں۔ وہ خواب جو عوام نے عمران خان  کے ساتھ مل کرکرپشن ، بے روز گاری اور لا قا نونیت ختم کرنے کے لئے دیکھے تھے وہ تو عمران نے اقتدار میں آکر چکنا چور کر دیے ۔اس کے بعد خواب تو نہ دیکھے۔ جو بھی دیکھا جاگتی آنکھوں نے دیکھا۔سندھ کے غیور عوام زندہ بھٹو سے خوب محظوظ ہورہی ہے ، اور قوی امید ہے اب پور پاکستان ضیاء الحق  کے ایک اور احسان سے بھر پور استفادہ کرے گا جو صدیوں یاد رکھا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں