0

مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج اور پولیس میں جھڑپیں، متعدد زخمی

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک):مقبوضہ کشمیر میں اسلحہ واپس لئے جانے کے بعد سے مقامی پولیس اور بھارتی فوج میں جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں دونوں اطراف کے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ افسران سے بدلہ لئے جانے کے خوف سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مقبوضہ کشمیر کے 30 پولیس افسران نے بتایا کہ جب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر کی حیثیت کو ریاست سے وفاقی اکائیوں میں تبدیل کیا ، انہیں دیوار سے لگادیا گیا ہے اور چند کیسز میں نئی دہلی کی جانب سے انہیں غیر مسلح کردیا گیا ۔ریاستی پولیس فورس کشمیر سے آئینی خودمختاری واپس لئے جانے کے صدارتی احکامات پر حیرت زدہ ہے جس کی وجہ سے افسروں کے حوصلے پست ہوگئے ہیں اور اب وہ وفاقی سکیورٹی فورسز کو رپورٹ کرتے ہیں جو ان کی وفاداری پر اس طرح سوال اٹھاتے ہیں جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ایک افسر کا کہنا تھا کہ آخر میں ہم اپنے رہے اور نہ ہی اعلیٰ حکام بھروسہ کرتے ہیں۔کئی پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ان کے محکمے سے جاری اسلحہ بھی مودی کی حکومت کے احکامات سے قبل واپس لے لیا گیا تھا کیونکہ حکام کو خدشہ تھا کہ وہ بغاوت کرسکتے ہیں۔دو پولیس افسران کا کہنا تھا کہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے بعد سے اب تک ریاستی پولیس اور فوجیوں کے درمیان 3 جھڑپیں ہوچکی ہیں جن میں دونوں اداروں کے افراد زخمی ہوئے ہیں۔چند افسران کا کہنا تھا کہ وہ خطے کی نیم خودمختار ریاست سے وفاقی اکائی میں تبدیل ہونے کے بعد سے خطے میں اپنے کردار کے حوالے سے ابہام کا شکار ہیں۔جہاں بھارتی پیرا ملٹری کے سپاہی چیک پوائنٹس پر رائفلز، شاٹ گنز، آنسو گیس کے کنستر اور ریڈیوز لئے کھڑے ہیں، وہیں کشمیری پولیس کے ہاتھوں میں صرف ڈنڈے نظر آرہے ہیں۔ایک افسر کا کہنا تھا کہ آج کل ہم بالکل فارغ بیٹھے ہیں۔چند افسران کا کہنا تھا کہ ہم یہاں فوجیوں کے کلرک اور ہیلپر بن گئے ہیں، ہم اسلحہ کیوں رکھیں، ہم بھی تو اس ہی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لئے جانے سے قبل جب وہاں اضافی فوج تعینات کی گئی تو وادی کی سب سے بڑی تنظیم حزب المجاہدین نے کشمیری پولیس کو نئی دہلی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا کہا تھا۔سری نگر میں ایک پولیس یونٹ کے انچارج افسر کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے حوصلے پست ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں ہماری تذلیل کی جاتی ہے ، پڑوسی ہمیں بھارت کے بوٹ پالشیے کہہ کر پکارتے ہیں جبکہ حکام ہم پر اعتبار نہیں کرتے ، یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ (کشمیرکا ) تنازع ختم نہیں ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں