0

ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کو قبل از وقت قرار دے دیا

بیارٹز(مانیٹرنگ ڈیسک): امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کو قبل از وقت قرار دے دیا۔فرانس کے شہر بیارٹز میں جی سیون ممالک کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ ان کے لیے قبل از وقت تھا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں۔صدر ٹرمپ نے جواد ظریف کی جی سیون اجلاس میں ڈرامائی شرکت سے متعلق کہا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ کی آمد سے متعلق آگاہ تھے اور وہ یہ سب کچھ جانتے تھے جو فرانسیسی صدر کررہے تھے، جو کچھ وہ کررہے تھے اس کی انہوں نے ہی منظوری دی تھی، فرانسیسی صدر نے ان کی منظوری چاہی تھی۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے تھے کہ یہ جواد ظریف اور ان کی ملاقات کا درست وقت تھا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ ملاقات کے لیے بہت جلدی ہے، وہ یہ نہیں چاہتے تھے، وہ ایک مضبوط ایران دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ ایران میں حکومت کی کوئی تبدیلی نہیں دیکھ رہے تھے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران پر زور دینا چاہتے ہیں کہ وہ بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروپ کے تعاون پر ایک نئی بات چیت کرے لیکن ایران نے اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ واشنگٹن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔واضح رہےکہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے فرانس میں جاری جی سیون کے اجلاس میں ڈرامائی انداز میں شرکت کی جس سے صدر ٹرمپ اور امریکی حکام حیران رہ گئے۔ایرانی وزیر خارجہ نے اجلاس کی سائیڈلائن پر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں تاہم وہ کسی امریکی حکام سے نہیں ملے۔یاد رہےکہ ایران اور امریکا کے درمیان ایٹمی معاہدے کے خاتمے کے بعد سے تعلقات کشیدہ ہیں اور امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کررکھی ہیں جب کہ یورپی رہنما دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اسی سلسلے میں فرانسیسی صدر نے ایرانی وزیر خارجہ کو جی سیون اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں