0

چین کے ماہرین انسانی حقوق کی جانب سے ملک کی مذہبی پالیسیوں پر پریس بریفنگ

چین کے تحفظ انسانی حقوق کے شعبے سے تعلق رکھنے والے دانشوروں نے پچیس اکتوبر کو اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے دفتر میں چینی اور غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے چین کی قومیتی و مذہبی پالیسیوں پر روشنی ڈالی اور سنکیانگ ، تبت اور ہانگ کانگ کے معاملات کے حوالے سے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے ۔

پریس بریفنگ میں چین کے تحفظ انسانی حقوق کی ایسوسی ایشن کے مستقل رکن چھانگ جیئن نے کہا کہ چین متعدد قومیتوں پر مشتمل ایک متحدہ ملک ہے ۔ چین نے مذہبی آزادی کی پالیسی اپنائی ہے اور یہاں تمام قومیتوں کا احترام کیا جاتا ہے۔ چین کے سرحدی امور کے دانشور شو جیئن اینگ نے سنکیانگ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی کے لیے اختیار کیے جانے والے اقدامات سے متعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ پیشہ ورانہ تربیتی سینٹرز کا قیام اس علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے کیا گیا ایک موئثر اقدام ہے ۔ گزشتہ تین برسوں میں سنکیانگ میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ۔ اس طرح سنکیانگ کے باشندوں کی بقا ، صحت اور ترقی کے حقوق اور خوشحال زندگی بسر کرنے کے حق کی ضمانت دی جا رہی ہے ۔ہانگ کانگ کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے چینی دانشور چھن شین شین نے کہا کہ ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی چین میں واپسی کے بعد مرکزی حکومت آئین اور ہانگ کانگ کے بنیادی قانون کے مطابق کام کرتی ہے ۔ ” ایک ملک دو نظام ” کی پالیسی کو ہانگ کانگ کے ہم وطنوں سمیت تمام چینی عوام کی حمایت حاصل ہے ۔ایسوسی ایٹیڈ پریس ، رائٹرز اور اے این ایس اے سمیت مغربی میڈیا کے دیگر اہم اداروں کے نمائندوں اور چینی صحافیوں نے اس پریس کانفرنس میں شرکت کی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں