دم توڑتی انسانیت

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب دولت کی ریل پیل نہیں تھی۔ جب مکان کچے اور رشتے پکے ہواکرتے تھے۔ کچے پکے راستوں پہ کہیں کہیں مکان ہوتے جن میں عام طورپرسادہ، غریب مگر مخلص لوگوں کا بسیرا ہوتا تھا۔ مسافر راستے میں آنے والے کسی بھی گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا اور صاحب ِ خانہ کا مہمان قرار پاتا۔ حقہ، پانی، سادہ سا کھانا اور ساتھ میں اگر کوئی بچہ ہوتا تو اس کے لیے دودھ بھی پیش کیا جاتا۔

گھروں میں سرسوں کا ساگ اور مکئی یا باجرے کی روٹیاں پکتیں تو پورا ماحول مہک اٹھتا۔ آس پاس کے کئی گھرمل جل کر کھاتے۔ چاٹی کی لسی اور مکھن، دیسی گھی کی پنیاں اور جلیبیاں تو ہماری نہایت شاندار روایات رہی ہیں۔ سردی کی راتوں میں جب گھر کے بزرگ آگ کی انگیٹھی کے گرد بیٹھ کر بے فکری سے حقہ گڑگڑاتے تو زندگی کھل کر سانس لیتی محسوس ہوتی۔ گھرمیں جب مہمان آجاتا تو پورے محلے کو خوشی ہوتی۔ کتنے بلند کردار تھے ہمارے اسلاف کہ جس کو بھائی بول دیا تو دنیا نے دیکھا کہ انھوں نے بھائی ہونے کا حق ادا کردیا۔ اگر کسی کے ساتھ چادر یا پگڑی کا تبادلہ کرلیتے تو حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر بھائی چارہ ہوتا۔
ہمارا حال یہ ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے ایک دوسرے کے حال سے ناواقف ہیں۔ اب اگرچہ دولت کی ریل پیل ہے مگر بے سکونی بھی انتہا کی ہے۔ نفسا نفسی اور خود غرضی کا یہ عالم ہے کہ جیسے جیسے دلوں میں دوریاں آرہی ہیں اسی طرح گھر کے آنگن میں دیواریں بن رہی ہیں۔ گھر میں کسی کا ایک باتھ روم، ایک ٹیلی ویژن یا ایک بیٹھک پہ گزارا نہیں ہوتا۔ سرِ شام ہر کوئی اپنے اپنے کمرے میں جا گھستا ہے اور جیسے جیسے رات ڈھلتی ہے ویسے ویسے سازشیں پروان چڑھتی ہیں۔جوں جوں مکان پکے ہورے ہیں ویسے ویسے دلوں میں دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ آج ہم اپنی چیزوں کو تو سنبھال کر رکھتے ہیں اور رشتوں اور جذبات و احساسات کو استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ چیزیں استعمال کے لیے اور رشتے سنبھالنے کے لیے ہوتے ہیں۔ اتفاق و اتحاد، اخوت و یک جہتی، ایثار و محبت، خلوص اور بے غرضی بھی ہماری دیگر روایات کی طرح دیمک زدہ کتابوں میں الماریوں کی زینت بن کر رہ جائیں گی۔
شادی بیاہ کے پرانے رسم و رواج دم توڑتے جا رہے ہیں اس وقت کئی دنوں تک جاری تقریبات ایک مرکزی تقریب یعنی ولیمہ میں مجتمع ہو چکی ہے شادی بیاہ کی تقریبات کو بے پناہ اخراجات کا ذریعہ بنادیا ہے۔شادی بیاہ میں مہندی کی رسم محض پیسے کی بربادی اور دکھاوا ہے ، مگر شادی کی رسومات میں اس کو سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے۔
کسی کے گھرفوتگی ہو جاتی تو اس گھر کا سارا انتظام پڑوسی اور محلے والے اپنے ہاتھوں میں لے لیتے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کسی کی فوتیدگی کی اطلاع گھر کے باہر لگے ٹینٹ کے ذریعے ہوتی ہے۔سوگوار خاندان کے لئے تین دن تک کھانے پینے کا انتظام کرنا ،اور میت کے کفن دفن کا بندوبست جیسی روایات مکمل طور پر معدوم ہو چکی ہیں۔زندگی بڑے گھروں سے ہوتی ہوئی لگژری فلیٹس تک محدود ہوگئی ہے۔بلند وبا لا عمارات میں اپنے پر تعیش فلیٹس میں رہنے والوں کو اپنی زندگی کی آخری ساعتیں بھی اپنے گھر میں گذارنی نصیب نہیں ہوتیں۔مرنیوالے کو غسل یا تو کھلے عام دیاجاتاہے یا پھر مردہ خانوں میں دیا جاتا ہے۔اور پھر مرنیوالے کا آخری سفر بھی وہیں سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ پڑوسیوں اور محلے داروں کے بچے ایک دوسرے کے گھروں میں دیر تک کھیلتے، کیا مجال کہ کسی کے ماتھے پر بل آتا ہو۔ اب اول تو بچے ایک دوسرے کے گھر جاتے ہی نہیں اور اگر چلے جائیں تو لوگ اپنے بچوں کو سرزنش کرتے نظر آتے ہیں۔ دلوں میں اس قدر تنگی آگئی ہے کہ پڑوسی کو پڑوسی کی خبر نہیں ہوتی۔ کسی محلے دار پر کوئی مشکل آجائے تو لوگ اپنا دامن بچا کر صاف نکل جاتے ہیں۔ گھروں کے اندر کا ماحول اس قدر پراگندہ ہو چکا ہے کہ اگر گھر کے سات افراد ہیں تو ساتوں موبائل کیساتھ لگے نظر آئیں گے۔ وہ پرانی قدریں جو ہمارے معاشرے کی جان اور شان تھیں ملیامیٹ ہو کر رہ گئیں۔

اپنی روایات سے دوری کا یہ عالم ہے کہ آج آپ کو ہر گھر میں کولڈ ڈرنکس تو مل جائیں گی لیکن شکنجبین، کچی لسی یا دودھ سوڈا شاید نہیں ملے گا۔ آپ کو چائے کے ساتھ سنیکس اور سموسہ تو مل جائے گا لیکن دیسی گھی کی پنجیری، چاولوں کے آٹے کی پنیاں اورخالص گڑ نہیں ملے گا۔ہماری نفس پرستی کا اگر یہی عالم رہا تو آنے والی نسلیں محض کاروباری اور پیسہ کمانے کی مشینیں بن کر رہ جائیں گی۔ تو پھر لمبی عمر اور طبعی موت کوئی نہیں پائے گا۔ شوگر، ہارٹ اٹیک، برین ہیمرج اور حادثات ہمارا مقدر بن جائیں گے۔ ہمارے زمانے میں بچے کرکٹ، ہاکی، فٹبال، والی بال، پٹھو گرم اور گلی ڈنڈا کھیلتے تھے اور جسمانی طور پر خوب مضبوط ہوتے تھے۔ اب سارا سارا دن گھر میں ہی پڑے موبائل یا کمپیوٹر سے چمٹے رہتے ہیں۔اقدار و روایات کا قائم رہنا قوموں کی بقا اور سربلندی کیلئے بہت ضروری ہے۔ان سے قومیں پہچانی جاتی ہیں۔ آج عیدیں ہمیں وہ مسرت نہیں دیتیں جو بسنت اور ویلنٹائن ڈے جیسے بیہودہ دنوں میں نوجوانوں میں نظر آتی ہے، عیدوں میں گرم جوش شرکت کو بیک ورڈ اور رجعت پسندی سمجھا جاتا اور غیروں کے تہواروں میں پرجوش شرکت کو جدت پسندی اور ماڈرن ہونے کی ضمانت اور علامت بتایا جاتا ہے تو پھر ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے جسد ِقومی کو خطرناک سرطان لاحق ہے جس سے پیچھا چھڑانے کی ہمیں جلد از جلد تدبیر کرنا ہوگی۔لیکن افسوس کہ ہم وقت کے دوش پر اتنا دور نکل گئے ۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں