امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی

واشنگٹن (نیوز ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کارروائی کے بعد ترکی پر عائد کی جانے والی پابندیاں اٹھانے کا اعلان کردیا۔

ترک صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں ترکی پر عائد پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے شمالی شام سے امریکی فوجوں کے انخلا کے حوالے سے کہا کہ خون کے داغوں سے بھرے صحرا میں کسی اور کو لڑنے دیں۔ امریکی فوجی تیل کی حفاظت کیلئے شام میں موجود رہیں گے جن کے بارے میں مستقبل میں فیصلہ کیا جائے گا۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے شام جیفری نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ترکی کے حملے کے بعد داعش کے 100 سے زائد قیدی فرار ہوگئے تھے اور امریکہ کو اس بارے میں کچھ پتا نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ داعش کے بہت کم جنگجو فرار ہوئے تھے جن میں سے اکثر کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔

دوسری جانب کرد جنگجوﺅں کے کمانڈر جنرل مظلوم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے ترک اور جہادی گروپوں کے کرد لوگوں پر حملے روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنرل مظلوم نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ایس ڈی ایف کے ساتھ معاونت جاری رکھنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کا یقین دلایا ہے۔

خیال رہے کہ ترکی نے شمالی شام میں کرد جنگجوﺅں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا تو اس کے جواب میں امریکہ نے ترکی پر معاشی پابندیاں عائد کی تھیں۔ جس وقت امریکہ اور ترکی میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا تو اس وقت صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ترکی پر مزید پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی اور پہلے سے لگی ہوئی پابندیاں بھی جلداٹھالی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں