امریکہ ” چینی عوام کا بہت احترام کرتا ہے،مائیک پینس

امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے انیس اگست کو “ڈیٹرائٹ اکنامک کلب “سے کئے جانے والے اپنے خطاب میں دعوی کیا ہے کہ امریکہ ” چینی عوام کا بہت احترام کرتا ہے” اور وہ نہیں چاہتا کہ چینی منڈی کو نقصان پہنچے۔لیکن اگر امریکہ کو چین کے ساتھ معاشی و تجارتی معاہدہ طے کرنا ہے تو چین کو سنہ انیس سو چوراسی میں ہانگ کانگ کے امور کی نسبت سے دستخط شدہ چین برطانیہ مشترکہ اعلامیے سمیت تمام وعدوں کو پورا کرنا چاہیئے۔پینس کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ معاشی و تجارتی مسائل پر سیاست کر رہا ہے۔ یہ طرزعمل چین کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ ہانگ کانگ کے بارے میں اس طرح کے بیانات ایک بڑی غلطی ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ سنہ انیس سو چوراسی میں طے پانے والا چین برطانیہ مشترکہ اعلامیہ ، ہانگ کانگ کی مادر وطن کو حوالگی کے دوران عبوری عرصے کے دوران متعلقہ بندوبست سے متعلق تھا۔یکم جولائی سنہ انیس سو ستانوے کو ہانگ کانگ کی واپسی کے بعد اعلامیے میں طے شدہ چین اور برطانیہ کے تمام حقوق اور ذمہ داریوں کی تکمیل کے بعد یہ اعلامیہ ایک تاریخی دستاویز بن چکا ہے۔ مائیک پینس نے ایک مرتبہ پھر امریکی نائب صدر کی حیثیت سے ایک تاریخی دستاویز کا سہارا لے کر چین کے داخلی امور میں مداخلت کی کوشش کی ہے۔ جو بہت عجیب بات ہے۔لوگوں نے دیکھ لیا ہے کہ امریکہ چین معاشی تنازعات کے دوران چین کی معیشت بدستور مناسب حد پر ترقی کر رہی اور اس کے برعکس امریکہ میں معاشی کساد بازاری کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے کے دوران حقائق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ چین پر دباؤ ڈالنے سے مسئلے کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی ۔ چین کا مؤقف بہت واضح ہے کہ معاشی و تجارتی مسئلے کے حل کے لیے اسی شعبے میں کوشش کی جانی چاہیئے ۔ چین چاہتا ہے کہ مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ مشاورت جاری رکھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں