بچے پر تشدد ۔کیا یہی تبدیلی ہے ۔۔۔؟

”فیس بک ”پر پوسٹ کی گئی ایک وڈیو میں یہ کہا گیا ہے کہ دوکان کے سامنے پیشاب کرنا معصوم بچوں کا جرم بن گیا۔پوسٹ کے مطابق شکر گڑھ کے نواحی گاؤں 40 فور ایل میں ظالم ہمسائے نے معصوم بچے کو باندھ کر مارنا شروع کر دیا،بچے کے باپ عباس نے شہر سے باہر جانا تھا تو وہ اپنے بچے کو ہمسائے یعقوب کے پاس چھوڑ گیا،بچے کی عمر تین چار سال ہو گی ،اس نے اس کی دکان کے آگے پیشاب کیا تو یعقوب کو طیش آگیا ،موقع پر کوئی اور محلے دار موجود تھا یا نہیں ۔۔؟ اس بارے کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں لیکن جب یعقوب نامی شخص نے معمولی غلطی پر بچے کوبرہنہ کیا،بچے کو کپڑے سے باندھا اور دیوار کے ساتھ لٹکا کربے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔تشدد کے ان لمحات کو ایک بندے سے اپنے موبائل میں وڈیو کی صورت محفوظ کیا اور بعد ازاں اسے فیس بک پر وائرل کردیا ۔ اس وڈیو کو غلام یاسین کھوکھر سکنہ شیرگڑھ کے نام سے پوسٹ کیاگیا ہے ۔ کس قدر بے حسی اور ڈھٹائی ہے کہ بندہ بچے پر ہونے والے تشدد کو روکنے ،ظالم کا ہاتھ پکڑنے کی بجائے اس ذلالت کی وڈیو بنانے میں لگ گیا ۔شائد اس کے دل میں یہ خیال آیا ہو کہ وہ کوئی ایسا کارنامہ کرنے جا رہا ہے کہ لوگ اسے شاباشی دیں گے ۔اُس کو ایوارڈ سے نوازیں گے کہ اُس نے ایک پُرتشدد انسانیت سوز واقعہ کی وڈیو بناکر انصاف کا بول بالا کیا ہے ۔؟خدا غارت کرے ہماری اس سوچ و فکر کو کہ ہم ظالم کو ننگا کرتے کرتے اپنے آپ کو ہی ننگا کر لیتے ہیں ۔اس حوالے سے ٹی وی پر دی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ شخص کی اہلیہ ناراض ہو کر میکے جا چکی ہے،بچوں نے ماں سے ملنے کی ضد کی ،جس پر طیش میں آکرباپ نے بچوں کو ننگا کرنے تشدد کا نشانہ بنایا۔اب کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے ۔یہ ایک لگ باے ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم ”سوشل میڈیا پر ”فیس بک” اور ”یو ٹیوب”پر اپنی دکانداری چمکانے (ڈالر کمانے ) میں لگے ہیں اور پیسے کی خاطر تما م تر اسلامی و اخلاقی اقدار کو فراموش کر چکے ہیں ۔ہماری یہ حرکتیں سراسر ہماری جہالت ہے ۔ جس معاشرے میں اخلاقیات کا جنازہ ہی نکل جائے اس معاشرے کو کوئی تباہی سے نہیں بچا سکتا ۔
پیشاب کرنا کوئی اتنی بڑی خطا نہیں اور اگر بیوی ناراض ہو کرچلی جائے تو اس صورت میں اگر بچے ماں سے ملنے کی آرزو کریں تو یہ بھی کوئی جرم نہیں ،ماں سے ملنا بچوں کا حق ہے ۔اور یہ دونوں جرم ایسے نہیں کہ یوںمعصوم بچے پر تشدد کیاجائے ،اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے ایک ناہنجار و ذلیل بندہ بچے کو ظلم سے بچانے کی بجائے اس کی وڈیوبنا تا ہے اس کو وائرل کر دیتا ہے ۔تشدد کرنے والے کا ظلم اپنی جگہ ناقابل معافی جرم ہے لیکن اس سے بھی بڑا جرم وڈیو بنانے والے نے کیا ہے۔۔۔تشدد کرنے والابچے پر تشدد کرکے اپنی مردانگی دکھا رہا ہے۔بچے تو بچے ہوتے ہیں ۔۔کسی معصوم پر یوں تشدد ۔۔اور وہ بھی ریاست ِ مدینہ بنانے کی دعویدار حکومت میں ۔ انصاف کی دہائی دینے کیلئے ہر دوسرا بندہ مذکورہ وڈیوسوشل میڈیا پر پوسٹ اور شیئر کر رہا ہے ۔ اور انہیںکوئی پوچھنے والا نہیں۔۔۔ بچے پر تشدد کا مرتکب شخص کیا ایسی ہی کسی غلطی پرکسی بڑے بندے کو بھی ایسی سزا دینے کی جرات کر سکتا ہے ۔نہیں ،کیونکہ ظلم ہمیشہ اپنے سے کمزور پر کیا جاتا ہے ۔۔یعقوب تو ظالم ہی تھا لیکن اس سے زیادہ بڑا مجرم تو وہ شخص ہے کہ جس نے یہ وڈیو بنائی اور پھر وائرل بھی کردی ۔۔۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیااس حوالے سے ہمارا تمام عمل درست ہے ۔؟۔کیا اس طرح ہم بچے کو انصاف دلا سکتے ہیں ۔؟۔ایک لمحہ ایوانوں ،تھانوں اور عدلیہ میں بیٹھے ہوئے لوگ ۔۔۔اہل علاقہ ۔۔عوامی نمائندے اس بات کا جواب دے سکتے ہیں کہ اس ظلم و زیادتی اور اس کی تشہیر کا ذمہ دار کون ہے ۔۔کیا ہم میں انسانیت مر گئی ہے ۔؟ کیا ہم مسلمان ہیں ۔۔؟اور کیا واقعی ہمارا ضمیر مردہ ہو چکا ہے ،سچ تو یہ ہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے تما م اخلاقی اقدار بھول چکے ہیں ۔۔کیا ہم اپنے دل کا غبار نکالنے کیلئے اس قدر پستی میں جا سکتے ہیں۔اس کا جواب تو ہماری سوشل میڈیا پر ڈالی جانے والی کارروائیوں سے بالکل واضح ہیں اور ان میں دن بدن ابتری آتی جا رہی ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اب ہم ایک ایسے دوہرائے پر کھڑے ہیںکہ جہاں ہم معاشرتی بگاڑ کو سنوارنے کی بجائے اسے مزید پراگندہ کرنے میں سرپٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں ۔”تشدد آمیز” وڈیو ز کو وائرل کرنے کی موجودہ روش نے عوام و خواص کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا ہے ۔بھارت سمیت دیگر ممالک کی اس قسم کی وڈیوز کو بھی ”پاکستان” سے منسوب کرکے دکھایا جا رہا ہے ،ہماری یہ سوچ و فکر ذہنی پستی کی عکاس ہے ،المیہ یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس تک نہیں رہا کہ ہم کیا کر رہے ہیں ۔اس بگڑے معاشرتی ماحول کو دیکھتے ہوئے ایسے ہی کئی سوالات ہر فرد کے ذہنوں میں گھوم رہے ہیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں ۔
اس ظلم پر حکومت، وزیر اعظم عمران خان،شہریار آفریدی ، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار،مقامی عوامی نمائندوں اور معززین علاقہ کی خاموشی سوالیہ نشان ہے ۔۔۔
کہاں ہیں آئی جی پنجاب ۔۔۔
کہاں ہے ضلعی انتظامیہ ۔۔۔۔
کہاں ہیںچیف جسٹس صاحب ۔۔؟
انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ بچے پر تشدد کرنے والے ، وڈیو بنانے اور وائرل کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔پی ٹی اے سمیت دیگر اداروں کو اس قسم کی وڈیوز کو وائرل کرنے کی روک تھام کیلئے اقدامات پر توجہ دینا چاہئے، ان دونوں ظالم درندوں کو ایک جس نے تشدد کا ارتکاب کیا اور دوسرا وہ جس نے وڈیو بنائی اور وائرل کی ،اسی طرح ننگا کرکے انہیں بھی” لتر” مارے جانے چاہئے کہ جس طرح اس ظالم نے بچے پر ظلم کیا ۔اس کام میں تاخیر نہیں، فوری انصاف ہونا چاہے ۔۔۔تاکہ آئندہ کسی کو بھی ا س قسم کے ظلم کی جرات نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں