کاتالونیا میں تنازعات پر مغربی ممالک کی خاموشی دوہرے معیارات کی عکاس ہے

کاتالونیا میں تنازعات پر مغربی ممالک کی خاموشی دوہرے معیارات کی عکاس ہے

اسپین کے خود اختیار علاقے کاتالونیا میں اکتوبر سنہ دو ہزار سترہ کو اسپین کی آئینی عدالت کے فیصلے کے باوجود نام نہاد ” آزاد ” ریفریڈم کا انعقاد کیاگیا۔ اسپین کی حکومت نے اسی اکتوبر کے آخری دس دنوں میں کاتالونیا کی خودمختاری کو ختم کردیا تھا۔

چودہ تاریخ کو اسپین کی سپریم کورٹ نے کاتالونیا خود اختیار علاقے کے سابق نائب سربراہ سمیت نو سابق اعلیٰ عہدے داروں کو قید کی سزا سنائی تھی۔اس کے بعد سے اسپین کےشہر بارسلونا میں احتجاج اور تصادم مسلسل طور پر جاری ہیں۔ ان مظاہروں میں شریک افراد نے پبلک تنصیبات کو تباہ کیا اور پولیس پر حملے کئے۔ پولیس نے پرتشدد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کیا۔

متعدد مغربی ممالک کی حکومتوں، عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں نے اپنی مفادات کے پیش نظر، ان واقعات پر خاموشی اختیار کئے رکھی۔ یہ وہ ادارے اور حکومتیں ہیں جومسلسل طور پر ہانگ کانگ کے مظاہرین کے لئے آواز بلند کرتی ہیں۔ اس صورت حال سے مغربی ممالک کا دوہرا معیار واضح ہوتا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹنگ کے حوالے سے اسکاٹش پارلیمنٹیرین نیو لینڈز نے سوشل میڈیا پر کہا کہ کل رات کاتالونیا کی صورتحال کے حوالے سے بی بی سی سے کوئی اطلاع نہیں ملی، بلکہ ہانگ کانگ قانون ساز کونسل کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی گئی۔

بھارتی دانش ور نارپت نے پاکستانی اخبار آبزرور پر جاری کردہ مضمون میں کہا کہ کاتالونیا یورپی یونین کی خاموشی کو نہیں بھولے گا۔یورپی یونین خود کو آزادی اور خود مختاری کی حامی سمجھتی ہے اور دوسرے ممالک کو سیکھانے کی کوشش کرتی ہے۔تاہم یورپی یونین اکثرلیبیا اور شام میں ہونے والے انسانی حقوق کے بحران کو نظر انداز کرتی ہے، جسے نیٹو کے رکن ممالک نے پیدا کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں