عام معافی کا اعلان

عربی زبان میں عفو کے معنی چھوڑ دینا ،کے ہیںیعنی قصور کرنے والے کو سزا نہ دیتے ہوئے اسے معاف کردیناعفو کہلاتا ہے۔خداوندِقدوس کے اسمائے پاک میں سے ایک العفوبھی ہے یعنی معاف کردینے والا۔معاف کردینا اللہ رب العزت کی ایک خاص صفت ہے۔اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اس بارے ارشاد فرمایا کہ ترجمہپس تمہیں چاہیے کہ لوگوں کو معاف کیا کرو،اور ان سے در گزر کیا کرو۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبروتحمل سے اپنے بدترین دشمنوں کے ساتھ شرافت وحسنِ سلوک،عفوودرگزر اور رحمت وشفقت کا وہ سلوک روا رکھا جو چشمِ فلک نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔حسنِ سلوک کے یہ فرحت آگیں مناظربے مثل وبے نظیر تھے۔آپ پر لوگوں نے پتھر برسائے ،مگر آپ نے انہیں دعائوں سے نوازا۔بڑھیا نے آپ پر گندگی پھینکی،مگر آپ نے اسکی تیمار داری فرمائی ۔حاطم طائی کی بیٹی کیلئے آپ نے اپنی چادر بچھادی ۔فتح مکہ کے واقعہ کو ہی لے لیجئے کہ جب آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے اور مفتوحین کے ساتھ کس قدر محبت شفقت اور معافی کا معاملہ فرمایا۔ فرطِ مسرت میں ڈوبے ہوئے اس عظیم اسلامی لشکر سے آواز آتی ہے کہ آج بدلے کا دن ہے،اور خوب بدلہ لیں گے ،آج ہم سمیعہ کی آہوں اور صہیب کی سسکیوں کا بدلہ لیں گے۔آج ہم حضرت بلال حبشی کی چیخوں کا بھی بدلہ لیں گے۔آج کوئی نہیں بچے گا ۔ہر کوئی اپنے اپنے انجام کو پہنچے گا۔مگر ہمارے کریم آقاۖ نے سب پرنگاہِ رحمت ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا کہبولو،تم لوگوں کو کچھ معلوم ہے،آج میں (محمدۖ)تم لوگوں سے کیامعاملہ کرنے والا ہوں؟یہ سوال سن کرسب مجرم کانپ اٹھے اور ان پہ لرزہ طاری ہوگیا،رحمتِ عالمۖنے اپنے دلنشین اور کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایاکہ آج میں وہ کہتا ہوں،جو میرے بھائی حضرت یوسف علیہ اسلام نے کہا تھا کہ آج کے دن تم سے کوئی مواخذہ نہیں۔کریم آقاۖ نے عفوعام کا اعلان فرمادیا،معافی کا اعلان سنتے ہی مجرموں کی آنکھیں فرطِ جذبات سے اشکبار ہو گئیں اور زبان پر کلمہ طیبہ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ جاری ہوگیا۔یہ تھا حقیقی ریاست مدینہ کا احوال اور اب اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنیوالی مملکت خداداد کا احوال پڑھ لیجئے۔
پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے رحیم یار خان کے صلاح الدین کے والد نے اللہ کی رضا کے لیے قاتلوں کو معاف کرتے ہوئے مقدمہ واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔اس سلسلے میں باضابطہ طور پر صلاح الدین کے آبائی گاں گورالی کی جامع مسجد میں تقریب منعقد کی گئی جس میں قائم مقام ڈپٹی کمشنر ذیشان حبیب، اسسٹنٹ کمشنر کامونکی شاہد عباس جوتہ سمیت مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
صلاح الدین کے والد ماسٹر افضال نے کہا کہ ہمیں کسی سے کوئی گلہ نہیں، بیٹے کی موت کا غم کبھی بھلایا نہیں جاسکے گا۔ اللہ کی رضا کے لیے قاتلوں کو معاف کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سے کوئی مطالبہ نہیں کیا، ترقیاتی کاموں کے لیے کیے گئے مطالبات گائوں والوں کی خواہش ہے جسے پورا ہونا چاہیے۔یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل صلاح الدین نامی شخص کو مبینہ طور پر بینک کی اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکالنے اور کیمرے کے سامنے زبان چڑانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مقامی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ اس دوران ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔
پولیس تفتیش کے دوران صلاح الدین پر تشدد کی تصاویر اور ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آئیں، جن میں وہ پولیس اہلکاروں سے سوال کرتے نظر آئے تھے: اِک گل پچھاں، مارو گے تے نئیں۔ تسی مارنا کتھوں سکھیا؟ پولیس حکام نے صلاح الدین کی موت کی وجہ دل کا دورہ پڑنا قرار دی تھی۔بعد میں صلاح الدین کی فرانزک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ موت سے قبل ان پر تشدد ہوا لیکن اسے موت کی سو فیصد وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانزک رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صلاح الدین کے جسم پر تین سے چار اور چار سے پانچ سینٹی میٹر کے تشدد کے نشانات پائے گئے۔
اس سے قبل صدیق خان کانجو کے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہونیوالے زین کی والدہ نے اپنی دو بیٹیوں سمیت عدالت کے روبرو پیش ہوکربیان ریکارڈ کرایا، مقتول کی والدہ نے کہا کہ بیٹا مرگیا اللہ کی رضا ہے، اس کی دو بیٹیاں ہیں، دشمن طاقتور ہے۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے مقتول کی والدہ نے کہا تھا کہ بیٹے کے قتل کو اس لئے برداشت کیا کہ اللہ کا فیصلہ ہے، وہ اکیلے ان لوگوں سے نہیں لڑ سکتی۔
اس مضمون میں نے آپ کے سامنے دو الگ الگ واقعات رکھے ہیں ۔ پہلے واقعہ میں اللہ کے نبی نے اپنے مخالفین کو اس وقت معاف کیا ، جب وہ بدلہ لینے کی استطاعت رکھتے تھے۔ دوسری طرف دو مظلوم خاندانوں کی کہانی ہے ۔ جنہوں نے ملزمان کو صرف اس لئے معاف کیا کہ ان کو اپنے نظام پر بھروسہ نہیں۔جس ملک میں شکایات کی چھان بین کیلئے اسی محکمے کے افسران کو تحقیقا تی افسر متعین کیا جائے جس کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہو ں ، تو وہاں کیا خاک انصاف ملے گا۔مادر وطن کی پولیس کے اختیارات کا یہ عالم ہے کہ ایک سینئر ہائوس آفیسر(ایس ایچ او) کو سی آر پی سی کی شق 54 کے تحت 11 اختیارات حاصل ہیں۔وہ کسی بھی شہری کو کسی بھی وقت کسی بھی شبے میں گرفتار کر سکتا ہے ۔ایسے نظام میں صلاح الدین جیسے مظلوموں کے والدین ظالموں کو معاف نہ کریں تو اور کیا کریں۔ زین کی والدہ اپنے بیٹے کا مقدمہ عدالتوں سے واپس لیکر اللہ کی عدالت میں نہ لے جائے تو اور کیا کرے۔ہمارے ملک کا قانون اس بد مست ہاتھی کی مانند ہے جو غریبوں کے کھیت اور کھلیان اجاڑ دیتا ہے۔لیکن اللہ کا انصاف دیکھئے اسی طاقتور ہاتھی کی موت ایک چھوٹی سی چیونٹی میں رکھی ہے۔اقتدار کی راہداریوں میں پھرنے والو کرپٹ نظام اور دور حکومت میں تو ماڈل ٹائون کے مظلومین کو انصاف نہ مل سکا۔لیکن ریاست مدینہ کے دعویداروں کے دور حکومت میںم ساہیوال کے مظلومین بھی انصاف کے منتظر ہیں۔نا معلوم افراد کے ہاتھوں نا معلوم افراد کا قتل آج بھی ہو رہا ہے۔ ہمارے ایک ماضی کے اپوزیشن رہنما اور موجودہ وزیر کہا کرتے تھے کہ جس قتل کا قاتل نا معلوم ہو تو اس کا قاتل حاکم وقت ہوتا ہے۔ اب شائد معیار بدل گیا ہو نہیں معلوم۔آخر پر ایک شعر آپ کی نظر
کب تک رہے گی کتاب سادہ، کبھی تو آغاز باب ہو گا
اجاڑ ڈالیں جنہوں نے بستیاں کبھی تو انکا حساب ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں