253

نانی دادی کی کہانیوں سے محروم نئی نسل

ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے مٹی کے بنے گھروں میں بیٹھ کر اپنی نانی اور دادی سے پریوں کی کہانیاں سنیں ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے بچپن میں اپنے دوستوں کیساتھ روایتی کھیل کھیلے ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے لالٹین کی روشنی میں امتحانوں کی تیاری کی اور والدین سے چھپ چھپ کر ناول پڑھے۔ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیںجنہوں نے اپنے پیاروں کیلئے اپنے احساسات سے بھرے خط میں لکھے ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے بیلوں کو ہل چلاتے دیکھا اور کھلیانوں کی رونق دیکھی ، ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے مٹی کے گھڑوں کا پانی پیا ہم وہ آخری لوگ ہیں جنہوں نے عید کا چاند دیکھ کر تالیاں بجائیں ، ہمارے جیسا تو کوئی نہیں کیونکہ ہم وہ آخری لوگ ہیں جو سر پہ سرسوں کا تیل انڈیل اور آنکھوں میں سرمہ لگا کر شادیوں پہ جاتے تھے ، ہم وہ لوگ ہیں جو پلاسٹک کے جوتے پہن کے گلی ڈنڈا کھیلتے تھے ، اور گلے میں مفلر لٹکا کے خود کو بابو سمجھتے تھے ، ہم وہ دلفریب لوگ ہیں جنہوں نے تختی لکھنے کی سیاہی گاڑھی کرنے کیلیئے دوات میں کوئلے کا سفوف ڈالا ، جنہوں نے سکول کی گھنٹی بجانے کو اعزاز سمجھا ، ہم وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی ہمارے جیسا تو کوئی بھی نہیں ۔اور شائد ہم ہی وہ آخری خوش نصیب ہیں جنہوں نے مشترکہ خاندانی نظام کے مزے لئے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے یہ تمام روایات دم توڑتی جارہی ہے مگر انکی افادیت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔مثال کے طور پر آخری ہچکیاں لیتے مشترکہ خاندانی نظام کو ہی دیکھ لیجئے۔بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل لڑکیوں کے والدین مشترکہ خاندان میں اپنی بیٹی بیاہنا پسند نہیں کرتے کہ ایک بھرے پرے گھر میں ان کی بیٹی کیسے گزارا کرے گی؟ حالاں کہ انھیں یہ بات سمجھنی چاہیے جب لڑکی والدین کا گھر چھوڑ کر سسرال آتی ہے تو اسے اپنے گھر والے یقینا یاد آتے ہیں۔ اسے ان کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے میں اگر وہ مشترکہ خاندان میں آتی ہے تو اسے ایک طرف تو بنا بنایا گھر ملتا ہے اور دوسری طرف گھر والے جس میں ساس، سسر کی صورت میں ماں باپ اور نند دیور کی صورت میں بہن بھائی ہوں گے، ان تمام رشتوں کو اگر دل سے قبول کرلیا جائے اور ان سے بھی اسی طرح محبت و احترام کا سلوک کیا جائے کہ جس طرح اپنے میکے میں والدین اور بہن بھائی سے کرتی ہے تو اسے کبھی مشترکہ خاندانی نظام کا حصہ بننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی۔
مشترکہ خاندانی نظام میں بہت آسانیاں ہیں مثلا گھر کے کام کاج گھر والے آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں۔ اس طرح گھر کی تمام ذمہ داری کسی ایک خاتون پر نہیں ہوتی بلکہ ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرتا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام ملازمت پیشہ خواتین کے لیے بہت سی آسانیاں پیدا کردیتا ہے۔ انھیں ملازمت کے دوران پورے گھر کی ذمہ داری نہیں نبھانی پڑتی۔دوسری طرف بچوں کی تنہائی کا خوف نہیں ہوتا۔ بچوں کی بہترین پرورش میں ساس، سسر کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا بھی موقع ملتا ہے اور رات کو مزے مزے کی کہانیاں بھی سننے کو ملتی ہیں۔اس طرح ملازمت پیشہ خاتون کو بچوں کی فکر نہیں رہتی۔ بچے بھی اپنے دادا دادی کے ساتھ اپنا اچھا وقت گزارتے ہیں۔ بزرگوں کو بھی بچوں کی صورت میں مصروفیت مل جاتی ہے۔

مہنگائی کے اس دور میں ایک تنہا فرد اپنی خاندانی ضرورت کو احسن طریقے سے پورا کرنے سے قاصر ہے لیکن مشترکہ خاندان میں شامل تمام افراد گھر کی ذمے داریوں کو آپس میں تقسیم کرتے ہوئے معاشی طور پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ یوں کسی ایک فرد پر پورے گھر کی معاشی ذمے داری کا بوجھ نہیں پڑتا۔ پورے گھر کا ایک دستر خوان مہنگائی کے اس دور میں بڑی کفایت کا باعث بنتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور متوازن غذا گھر کے ہر فرد کو میسر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ خوشیوں اور غم کے لمحات میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہوئے پریشانیوں کا مقابلہ بہتر طریقے سے کرتے ہیں تو یہ سہارا بہت تحفظ فراہم کرتا ہے۔
غرض یہ کہ مشترکہ خاندانی نظام کے بے شمار فوائد ہیں لیکن آج کے دور میں بہت کم خاندان اس روایت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس روایت کے ٹوٹنے کی کئی وجوہات ہیں۔ بنیادی وجہ گھر کے افراد میں ذہنی ہم آہنگی کا فقدان یا دوسرے الفاظ میں اختلاف رائے ہے کہ وہ ایک دوسرے سے متفق نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے ان میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ افراد ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں جو بدمزگی اور دلوں میں کدورت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ خاندان میں سب سے زیادہ اہمیت ساس سسر کی ہوتی ہے اگر گھر کی بہو ان رشتوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ان سے محبت و احترام سے پیش آئے تو لڑائی جھگڑے جنم نہیں لیں گے۔
مشترکہ خاندانی نظام میں ہر بہو کی خواہش ہوتی ہے کہ گھر کا کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہو جب کہ ساس اپنا اختیار چاہتی ہے پھر جو فرد زیادہ کما رہا ہوتا ہے اس کو اہمیت اور اس کے فیصلوں کو اولیت دی جاتی ہے۔ اکثر ایک کمانے والے پر ہی پورا خاندان انحصار کرتا ہے۔ مشترکہ خاندان میں گھر کے ہر فرد کو ایک ہی طرز زندگی اختیار کرنا پڑتی ہے۔ خاندان کے ہر فرد کے ساتھ برابر کا سلوک کرنا پڑتا ہے ورنہ دوسرے سمجھتے ہیں کہ انھیں کم اہمیت مل رہی ہے۔ گھر کی ہر چیز مشترکہ ہوتی ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر مشترکہ خاندانی نظام کی روایت دم توڑتی جارہی ہے۔ہر لڑکی شادی کے بعد تنہا رہنا چاہتی ہے۔ وہ کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتی۔ اگر شادی کے بعد خود لڑکی اس کے والد اور لڑکے کے گھر والے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ خاندانی نظام کی اہمیت کو سمجھیں تو معاشرے کی ایک مضبوط روایت کو پھر سے زندہ کرسکتے ہیں۔ یہ نظام بند مٹھی کی طرح ہے جو خاندان کے اراکین کو ہر طرح کے حالات میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کی روایت برقرار رہے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں