0

آئیے کثیرالجہتی کو بنی نوع انسان کی ترقی کیلئے مشغل راہ بنائیں


یہ جملہ ورلڈ اکنامک فورم ڈیوس ایجنڈےسے چینی صدر شی جن پھنگ کے ۲۵ جنوری کو ہونے والے خطاب سے لیا گیا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم ڈیوس ایجنڈا ۲۵ تا ۳۰ جنوری منعقد ہورہا ہے جس میں کووڈ ۔۱۹ کے تناظر میں ۲۰۲۱ میں دنیا کو درپیش اہم چیلنجوں پر مکالمہ ہورہا ہے ۔ ایک عرصے سے چین ایک بڑے اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کررہا ہے اور خاص طور پر عالمی امن، ترقی، ماحول دوست اقدامات، معیشت اور عالمی سپلائی چین کو برقرار رکھنے میں نہایت ذمہ داری کا مظاہرہ کررہا ہے۔ چین کے عالمی سطح پر کردار میں چینی صدر شی جن پھنگ کا وژن رہنما کردار اداکررہاہے ۔ جس کا مرکزی نقطہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کا قیام، تعاون اور کثیر الجہتی ہے ۔اس وقت دنیا مشکل وقت سے گزررہی ہے اور کووڈ۔۱۹ کی وجہ سے دنیا کو صحت کے بحران کے علاوہ معاشی

اور سماجی مشکلات کا سامنا ہے۔ تقسیم درتقسیم اور اختلافات کاسلسلہ بڑھ گیا ہے ایسے میں صدر شی جن کا خطاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس خطاب کے اہم نکات آپ کی خدمت میں پیش کررہاہوں کیونکہ اس کا تعلق عالمی مسائل کے علاوہ بہت سے ایسے امور سے بھی ہے جس کا تعلق اس کرہ ارض پررہنے والے تمام لوگوں سے ہے ۔اس خطاب میں عہدحاضر کےاہم مسائل پرروشنی ڈالی گئی ہے،ان کا حل تجویز کیا گیا ہے ،چین کےذمہ داراں نےاظہارکیاگیاہے ۔ اوروباکےبعدعالمی تعاون اورعالمی گورننس کی بہتری کیلئے رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
شی جن پھنگ نےعالمی اقتصادی فورم کے ڈیووس ایجنڈا سےخطاب کرتےہوئےاس بات پر زور دیا کہ تمام انسان ایک ہی کرہ ارض کے باسی ہیں اوربنی نوع انسان کا مستقبل مشترک ہے چاہےموجودہ بحران سےنمٹنا ہویا بہترمستقبل پیداکرناہو،بنی نوع انسان کومل کرکام کرنے،متحد ہونےاورتعاون کی ضرورت ہے۔

آئیےہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کرکثیرالجہتی کی مشعل سے بنی نوع انسان کی ترقی کے راستےکو روشن کریں۔
شی جن پھنگ نےاپنے خطاب میں کہا کہ ہار جیت اورفاتح سب کچھ حاصل کرتاہے کا تصور” چینیوں کافلسفہ نہیں ہے۔چین مضبوطی سے پرامن آزادخارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دوسرے ممالک کے ساتھ فعال طور پر دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں کثیرالجہتی پر عملدرآمد میں عدل کو برقراررکھناچاہئےاور مستقبل کیلئے نئے آئیڈیاز تخلیق کرنےچاہئیں۔عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے تقاضوں کو پورا کرناچاہیئے ،اور وسیع مشاورت اور اتفاق رائے کی بنیاد پر عالمی نظم و نسق کے نظام میں اصلاحات اوربہتریلانیگ چاہیئے۔
صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ سائنسی اور تکنیکی کامیابیوں کو دوسرے ممالک کی ترقی کو روکنے اور ان کو محدود کرنے کیلئے استعمال نہیں کرناچاہئے۔۔چین عملی اقدامات کے ساتھ کثیرالجہتی پر عمل پیرا ہے اور ہم سب کی مشترکہ میراث یعنی کرہ ارض کےتحفظ اورپائیدارانسانی ترقی کےعمل میں حصہ لیتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں باہمی مفادات اورمشترکہ کامیابی کےتصورکی روشنی میں تعاون کرنا چاہیے ، مختلف ممالک کی ترقی کے

مساوی حقوق کی حفاظت کرنا چاہیئے، مقابلےکے بجائے منصفانہ مسابقت سے ایک دوسرےسےآگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخ اورحقائق سے سیکھنا چاہیے۔موجودہ دنیا اگر محاذآرائی کےغلط راستےپر گامزن رہےگی، توچاہےسردجنگ ہویاگرم جنگ،تجارتی جنگ ہو یا تیکنیکی جنگ ، آخر میں مختلف ممالک کےمفاد اور عوام کی خوشحالی ہی کونقصان پہنچے گا۔
شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ نظام اور قوائد کےذریعے مختلف ممالک کے مابین تعلقات کا انتظام ہونا چاہیے اور بالادستی کی مخالفت کرنی چاہیئے۔ طاقت کے زور پر فیصلہ کرنےاورکثیرالجہت پسندی کےنام پریک طرفہ پسندی پرعمل کرنےجیسے اقدامات کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔چینی صدر شی جن پھنگ نےاس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو ایک یا چند ممالک کےذریعےبین الاقومی حکمرانی جاری رکھنے کی بجائےتمام ممالک کےقوانین اوراتفاق رائےکےمطابق حکمرانی کی حمایت کرنا چاہیئے۔ چینی صد نے واضح کیا کہ عالمی سطح پر الگ الگ بلاک بنانے، نئی سرد جنگ شروع کرنے،دوسروں سے الگ تھلگ ہونے،دھمکانے ، رسدوترسیل کوبند کرنے یاپابندیاں عائدکرنےکی کوششوں سے دنیاکو تقسیم اورتصادم کاخطرہ ہوگا۔چینی صدر نے کہاکہ انسانیت کودرپیش تمام عالمی مسائل کوکوئی بھی ملک اکیلاحل نہیں کرسکتا ۔ان مسائل کےحل کےلیےمشترکہ عالمی اقدام،عالمی ردعمل اورعالمی تعاون کی ضرورت ہے۔

چینی صدر شی جن پھنگ نےکہا کہ عالمی برادری کو ایک طویل مدتی نظریہ اپنانا چاہئے اور وعدوں پر عمل درآمد کرنا چاہئے، ترقی پذیر ممالک کی ترقی کیلئے ضروری مدد فراہم کرنا چاہیئے، ترقی پذیر ممالک کے جائز ترقیاتی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیئے ،مساوی حقوق ، مساوی مواقع اور مساوی قواعد کو فروغ دینا چاہئے ، تاکہ تمام ممالک کےعوام ترقی کے مواقع اور کامیابیوں کو بانٹ سکیں۔
چینی صدر نے کہا کہ اختلافات خطرناک ںہیں بلکہ غرور،تعصب اورنفرت خوفناک ہیں۔انسانی تہذیب کو مختلف درجوں میں تقسیم کرناخوفناک ہےاور اپنی تاریخی ثقافت اورمعاشرتی نظام کودوسروں پرمسلط کرنا خوفناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ممالک کو باہمی احترام کی بنیاد پرپرامن بقائےباہمی کےاصولوں پر قائم رہناچاہیے اور اختلافات کےباوجودمشترکہ تصورات کاتحفظ کرنا چاہیے ،تاکہ ممالک کےمابین تبادلہ کوفروغ ملے اورانسانی تہذیب کی ترقی اور پیش رفت ممکن ہو۔

شی جن پھنگ نے واضح کیا کہ کوئی دو ایسے پتے موجود نہیں،جوبالکل ایک جیسےہوں اورنہ ہی ایسی تاریخ،ثقافت اورمعاشرتی نظام جو بالکل یکساں ہوں ۔ مختلف ممالک کی اپنی اپنی تاریخ، ثقافت اورمعاشرتی نظام ہیں،جن کے ایک دوسرےسے بہترہونے یا بدتر ہونےکا سوال نہیں ہے۔اہم بات یہ ہےکہ کیا وہ نظام اپنےملک کے معروضی حالات سےمطابقت رکھتے ہیں یا نہیں؟کیا اسے عوام کی حمایت حاصل ہےیانہیں؟کیا وہ سیاسی استحکام، سماجی ترقی اورعوامی زندگی کی بہتری کوعمل میں لاسکتےہیں یا نہیں؟اورکیا وہ بنی نوع انسان کی ترقی کےلیےخدمات سرانجام دےسکتے ہیں یانہیں؟
چینی صدر نے کہا کہ مختلف ممالک کی تاریخ ، ثقافت اور معاشرتی نظام میں تفریق اور اختلافات قدیم زمانے سے موجود ہیں ، یہ انسانی تہذیب کی موروثی خصوصیت ہے ۔ تنوع کے بغیر انسانی تہذیب کاتصورنہیں کیاجاسکتا۔ تنوع ایک معروضی حقیقت ہے جوہمیشہ موجودرہےگا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ وبا کےخلاف جنگ جاری ہے،لیکن ہماراایمان ہے کہ سردی بہارکی آمدکو نہیں روک سکتی ،اورنہ ہی تاریک رات صبح کی کرنوں کو روک سکتی ہیں۔یقینا بنی نوع انسان وبا کیخلاف جدوجہدمیں فتح یاب ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں