چینی صدر کے دورہ جنوبی ایشیا سے علاقائی تعاون کے لیے نئے مستقبل کا آغاز ہوا، وانگ ای

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )گیارہ سے تیرہ اکتوبر تک چینی صدر شی جن پھنگ نے بھارت میں چین بھارت رہنماؤں کی دوسری غیر رسمی ملاقات میں شرکت کی اور نیپال کا سرکاری دورہ کیا۔

دورے کے اختتام پر چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے صحافیوں کو اس دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے نے جنوبی ایشیا میں ہمسائیہ ممالک کے مابین دوستی کا ایک نیا پلیٹ فارم مہیا کیا ہے اور اس سے حقیقت پسندانہ علاقائی تعاون کے لیے نئے عہد کا آغاز کیا گیا ہے۔

وانگ ای نے کہا کہ جناب شی نے نریندر مودی کے ساتھ مل کر اعلی سطحی اقتصادی و تجارتی مذاکرات کا نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ علاقائی انٹرکنیکشن کی تعمیر کو فروغ دیتے ہوئے آر سی ای پی یعنی علاقائی جامع معاشی شراکت داری کے معاہدے پر جلد از جلد اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔

فریقین نے اقوام متحدہ کو مرکزی اہمیت دینے والے بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر مبنی عالمی نظم و نسق کے تحفظ، کثیرالطرفہ تصورات اور کثیرالطرفہ تجارتی نظام کے تحفظ پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس قسم کے مفید اور موثر اسٹریٹجک رابطے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ نریندر مودی نے چین میں چینی صدر شی سے مزید ملاقات کے لیے ان کی دعوت قبول کر لی۔

نیپال کے سرکاری دورے کے حوالے سے وانگ ای نے کہا کہ اس دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے مستقبل کے لیے مشترکہ طور پر منصوبہ بندی کی۔ اس دوران تعاون کی بیس دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ اس کے علاوہ فریقین نے ترقی و خوشحالی کی خاطر نسل درنسل دوستی پر مبنی اسٹریٹجک تعاون کے شراکت داری تعلقات کے قیام کا اعلان کیا۔

وانگ ای نے بھارت- پاکستان تعلقات کے حوالے سے کہا کہ دونوں ممالک چین کے دوست پڑوسی ممالک ہیں۔ چین کو امید ہے کہ دونوں ممالک اختلافات پر قابو پاتے ہوئے باہمی تعلقات کو بہتر بنائیں گے۔ صدر شی جن پھنگ نے زور دیا ہے کہ چین کی دلی خواہش ہے کہ چین بھارت تعلقات اچھے ہوں، چین پاکستان تعلقات اچھے ہوں اور بھارت پاکستان تعلقات بھی اچھے ہوں۔ انہوں نےامید ظاہر کی کہ سب مل کر علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے اور مشترکہ ترقی و خوشحالی کی تکمیل کی کوشش کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں