0

دوست وہی جو مشکل میں کام آئے

چین اور پاکستان سدا بہار دوست ہیں جو بہار و وخزاں باد و باراں ہر موسم میں ایک دوسرے کا بھر پور ساتھ دیتے ہیں۔ چین اور پاکستان کی دوستی کیلئے استعمال ہونے والے یہ جملے اور ضرب المثل کھوکھلے نہیں ہیں بلکہ وقت اور حالات بار بار ان کی تصدیق کرتےہیں اور ان کی صداقت کو مزید تقویت دیتے ہیں۔کووڈ ۔۱۹ کے چین میں نمودار ہونے کے بعد شروع کے دنوں میں پاکستان نے چین کی اپنی استطاعت کے مطابق بھر پور مدد کی اور ملک کے اندر ہسپتالوں میں موجود ماسک جمع کرکے اپنے آہنی بھائی چین کو دیے۔

چین کی حکومت اور چینی عوام نے پاکستان کے اس اقدام اور جذبے کو انتہائی سراہا ااور اس اقدام پر بار بار ایک قابل فخر دوست کے طور پر پاکستان کا تذکرہ کرتے ہیں۔میں چین میں جہاں بھی اپنا تعارف پاکستانی کے طور پر کرتاہوں انتہائی والہانہ جذبات کے ساتھ لوگ ملتے ہیں اور بہت قد رکرتے ہیں ۔کووڈ۔۱۹ کے نمودرار ہونے کے شروع کےدنوں میں ہی چین سے مشکل کے وقت اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان کے صدر محمد عارف علوی نے چین کا دورہ کیا ۔ چینی حکومت اور چینی عوام پاکستان اور پاکستانی عوام کے ان دونوں اقدامات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

اس کے کچھ عرصہ بعد پاکستان بھی کووڈ۔۱۹ کی زد میں آیا اس موقع پر چین پاکستان کے ساتھ بڑے بھائی کے طور پر کھڑا ہوگیا اور نہ صرف پاکستان کو انسداد وبا کیلئے طبی سامان بھیجا بلکہ ماہرین کی ٹیمیں بھی بھیجیں جنہوں نے پاکستان کے طبی عملے کے ساتھ انسداد وبا سے متعلق قیمتی مشورے اور تجربات شئیر کیے۔ صرف یہ نہیں بلکہ وبا کے باوجود سی پیک پر کام کو نہیں روکا ۔ یہ سلسلہ رکا نہیں ہے ۔

اس وقت کووڈ۔۱۹ کی روک تھام کے حوالے سے دوسرا اور اہم مرحلہ شروع ہوچکا ہے ۔ جس میں کووڈ ۔۱۹ کی ویکسین لگائی جارہی ہے ۔جس طرح چین نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ کووڈ۔۱۹ کی تقسیم کے وقت غریب اور ترقی پذیر ممالک پیچھے رہ سکتے ہیں اور امیر اور ترقی یافتہ ممالک اپنے ممالک کو پہلی ترجیج دیں گے ۔ اس وقت وہی صورتحا ل پیش آرہی ہے۔ امیر ممالک میں کووڈ ۔۱۹ کی ویکسین تیزی سے دی جارہی ہے لیکن غریب اور ترقی پزیر ممالک میں یا تو یہ سلسسلہ شروع نہیں ہوا یا اگر ہوا ہے تو بہت آہستہ ہے۔

پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے ۔ ایسے میں چین نے آگے بڑھ کر پاکستان کا ہاتھ تھا ماہے ۔اور پاکستان کو ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکیں مفت فراہم کرنے کا اعلان کیاہے۔
یہ اعلان پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کیا انہوں نے کہا کہ چین کی طرف سے پانچ لاکھ خوراکوں پر مشتمل کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ 31 جنوری تک پاکستان پہنچ جائے گی۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، ’میں نے وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ان سے ویکیسن کے بارے میں بات کی۔‘شاہ محمود قریشی کے مطابق ’چینی وزیر خارجہ نے کہا جہاز بھجوائیں اور دوائی لے جائیں‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ چین کے خصوصی تعلقات ہیں اور چین نے جن ممالک کی مدد کرنے کا پروگرام بنایا گیا تھا ان میں پاکستان پہلے نمبر پر تھا۔ شاہ محمود قریشی نے یہ بھی بتایا کہ چین کی جانب سے ویکسین مفت فراہم کی جا رہی ہے ۔اور چینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو ویکسین کی ایک اعشاریہ ایک ملین خوراکیں فروری کے آخر تک فراہم کر دی جائیں گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب انہوں نے اپنے ہم منصب سے پاکستان کے اندر ویکسین کی تیاری کے حوالے سے بات کی تو انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان میں ویکسین کی تیاری میں بھی مدد دی جائے گی۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس بریفنگ میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’چین کی حکومت نے پاکستان میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے کرونا ویکسین کا ایک بیچ بطور امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پاکستان کو ویکسین کی برآمد میں تیزی لانے کے لیے بھی حکومت متعلقہ چینی کمپنیوں کے ساتھ فعال طور پر رابطہ کرے گی۔
اس سے قبل ایک ٹویٹ میں شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی ویکسین ’سائنو فارم‘ کمپنی کی ہو گی جس کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈی آر پی) پہلے ہی ملک میں ہنگامی استعمال کی منظوری دے چکی ہے۔ ‘

سائنو فارم کمپنی کی ویکسین کی بڑی خوبی یہ ہے کہ بہت سی دوسری ویکسینز کے برعکس ایک عام ریفریجریٹر میں دو سے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ تک محفوظ کی جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں بھی اس کی منظوری دی گئی ہے ۔

چین اور پاکستان طویل عرصے سے وبا پر قابو پانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔چین نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے کہ کہ دونوں ممالک کی دوستی ہمالہ سے اونچی ، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔اور دوست وہی جو مشکل میں کام آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں