0

بھارت نے دریائے چناب پر بجلی گھر بنانے کی منظوری دیدی

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے اعتراضات اور تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر ایک اور پن بجلی کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں نئی دہلی میں کابینہ کے اجلاس میں باضابطہ طور پر منصوبے کی منظوری دی گئی۔ منظوری ملنے کے بعد حکام نے بتایا کہ پن بجلی کا یہ منصوبہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دریائے چناب پر پانی کے بہاوٴ پر تعمیر ہو گا۔ حکام کے مطابق 850 میگا واٹ پن بجلی کے منصوبے کو لگ بھگ 52 ارب روپے کی لاگت سے پانچ سال میں مکمل کیا جائے گا۔

اس منصوبے کا سنگِ بنیاد بھارت کے سابق وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے 25 جون 2013 کو رکھا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دریائے سندھ اور دیگر دریاوٴں کا پانی منصفانہ طور پر تقسیم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد کا یہ الزام بھی رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی جاری ہے اور بعض منصوبے، جن میں ریٹل پاور پروجیکٹ بھی شامل ہے، پاکستان کو مستقبل میں اس کے حصے کے پانی سے محروم کر دیں گے۔ بھارت اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ جن آبی منصوبوں پر وہ کام کر رہا ہے وہ دراصل پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بلکہ بہتے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ہیں۔ جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں