0

جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ نافذ: طاقتور ممالک کی مخالفت

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ) ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ممالک کی مخالفت کے باوجود جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا پہلا تاریخی معاہدہ آج سے نافذ العمل ہو گیا ۔عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ نافذ ہونے کے بعد اب وہ عالمی قانون کا باقاعدہ حصہ بن گیا ہے۔

بنیادی طور پر اس معاہدے کا مقصد آئندہ مستقبل میں کسی بھی ملک کو ہیروشیما اور ناگاساکی جیسی صورتحال سے بچانا ہے لیکن کیا ایسا عملاً ممکن ہو گا؟ تاحال یہ اہم سوال ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق جولائی 2017 میں جب اس معاہدے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا تھا تو 120 سے زیادہ ممالک نے اس کی حمایت کی تھی۔

دلچسپ امر ہے کہ اس وقت امریکہ، روس، برطانیہ، چین، فرانس اور نیٹو اتحاد سمیت دیگر نے اس کی مخالفت کی تھی۔ نیٹو اتحاد میں 30 سے زائد ممالک شامل ہیں۔

اس معاہدے کو جاپان کی بھی تائید حاصل نہیں ہو سکی تھی حالانکہ وہ دنیا کا واحد ملک ہے جو ایٹمی حملوں کا نشانہ بنا ہے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی مہم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیٹریس فہن نے آج کے دن کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے لیے بہت بڑا دن قرار دیا ہے۔

نوبیل انعام یافتہ فہن کے مطابق اس معاہدے کو 24 اکتوبر کو مطلوبہ 50 ویں توثیق ملی تھی جس کے 90 دن بعد 22 جنوری کو یہ نافذالعمل ہو گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ایجسنی کے مطابق فہن کا کہنا ہے کہ معاہدے میں شریک ممالک پر ایٹمی ہتھیاروں کو رکھنے اور یا ان کے حصول کی کوشش کرنے پرپابندی ہو گی۔اس ضمن میں ہونے والے معاہدے کے تحت ممالک کسی بھی قیمت پرکسی بھی وقت جوہری ہتھیاروں کی تیاری، ٹیسٹنگ، پیداوار اور اس میں پیشرفت نہیں کرسکیں گے۔

جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کے تحت جوہری ہتھیاروں یا جوہری دھماکہ خیز آلات کی منتقلی اور استعمال پر بھی پابندی ہو گی۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی بھی نہیں دی جاسکے گی۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گتیرس کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ معاہدے نے جوہری تخفیف اسلحے سے متعلق کثیرالجہتی نقطہ نظر کو فروغ دیا ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں جب یہ معاہدہ مطلوبہ 50 ویں توثیق حاصل کے قریب پہنچ رہا تھا تو اس وقت امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے متعلقہ ممالک کو باقاعدہ خطوط لکھ کر کہا کہ اس طرح وہ بڑی اسٹریٹیجک غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں