0

امریکی سیاستدانوں کا تبت کارڈ ردی کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں، چین

بیجنگ (نیوز اپ ڈیٹ)رخصت ہوتی امریکی انتظامیہ کے کچھ سیاست دانوں نے نام نہادچائنا کارڈ کھیلنے کے لئے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔یہ سیاستدان نام نہادتبت پالیسی اینڈ سپورٹ ایکٹ 2020″ کو بنیاد بنا کر تبت کے مسئلے کو ایک بار پھراچھالنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

درحقیقت یہ ایک دو دن کی بات نہیں کہ امریکہ میں کچھ لوگوں نے تبت کی طرف اپنے کالے ہاتھوں کو بڑھایا ہو۔ ۱۹۵۰ اور ۱۹۶۰ کی دہائیوں میں امریکی سی آئی اے کی مدد سے دلائی لاما کے فرار ، امریکی سیاستدانوں کے دلائی گروہ کی طویل مدتی مدد اور تبت سے متعلق مختلف بلوں کی شکل میں امریکہ نے تبت کے معاملات میں کھلم کھلا اور خفیہ طور پر مداخلت کرکے چین کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم ، تاریخی رجحانات کو پلٹا نہیں جاسکتا۔ 1959 میں جب سے تبت نے جمہوری اصلاحات نافذ کیں ، لاکھوں لوگ غلامی کی زنجیر سے نکل کر مالک بن گئے ہیں اور مساوی سطح پر ریاستی امور کے انتظام میں حصہ لیتے ہیں اور اپنے لوگوں اور علاقوں کے امور کا آزادانہ انتظام کرتے ہیں۔ کون ایسے ماضی کی طرف لو ٹنا پسند کرے گا جہاں آزادی نہ تھی اور سر قلم ہوتے تھے۔

اس وقت مرکزی حکومت کے بھرپور تعاون کے ساتھ ، تبت کی ترقی تاریخ کے بہترین دور میں داخل ہوگئی ہے۔ تبت کی خوشحالی اور استحکام نے علیحدگی پسند قوتوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں