0

اسرائیلی وزیردفاع بینی گانٹزنے اپنی ہی حکومت گرانے کی حمایت کردی ی

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی وزیر دفاع اور متبادل وزیراعظم بینی گانٹزنے نتن یاہو کی حکومت گرانے کی حمایت کر تے ہوئے حزب اختلاف کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت حکومت ختم کر کے اسرائیل کو دو سال کے اندر اندر چوتھے انتخابات کروانے پڑیں گے.

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق گانٹز کی اعتدال پسند بلیو اینڈ وائٹ پارٹی اس وقت نتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومتی جماعت لکوڈ کی اہم اتحادی ہے یہ حکومتی اتحاد تین انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف سخت مقابلے کے بعد بھی کوئی واضح فاتح سامنے نہ آنے کے بعد قائم کیا گیا تھا.
بینی گانٹز اسرائیلی فوج کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نتن یاہو کی جانب سے بجٹ تجاویز کی حمایت نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ انتخابات کی جانب جانا چاہتے ہیں.

اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کل اسرائیلی پارلیمان کی تحلیل کے لیے پیش کی جانے والی قرار دار کی حمایت کرے گی اگر یہ قرارداد پاس ہو جاتی ہے تو اس کے باوجود نئے الیکشن کے لیے مزید کئی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے. گانٹز کے خطاب سے کچھ دیر قبل نتن یاہو نے ٹوئٹر پر جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں بینی گانٹز پر اس قرارداد کی حمایت نہ کرنے پر زور دیا ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت انتخابات کا نہیں ہے یہ متحد ہونے کا وقت ہے.
نتن یاہو اور بینی گانٹز کی یہ اتحادی حکومت اپریل میں ایک معاہدے کے بعد قائم ہوئی تھی، جس کا مقصد اسرائیل میں سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ کرنا تھا اس تین سالہ معاہدے کے تحت نصف مدت کے لیے نتن یاہو کو وزیر اعظم رہنا تھا

جبکہ نومبر 2021 میں بینی گانٹز نے یہ عہدہ سنبھالنا تھا. نتن یاہو کے ناقدین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ بجٹ منظوری اس لیے نہیں دے رہے کہ وہ وزیر اعظم کا عہدہ بینی گانٹز کو سونپنا نہیں چاہتے دوسری جانب بینی گانٹز نے نتن یاہو سے اپنی اپیل میں زور دیا کہ وہ اس معاملے پر کابینہ میں رائے شماری کروا لیں.

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گانٹز نے پارلیمان کو تحلیل کرنے کی حمایت کرکے نتن یاہو کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ ان کی بجٹ تجاویز کی حمایت کر سکیں جبکہ گانٹز خود بھی انتخابات کی جانب جا کر اپنے لیے سیاسی مسائل پیدا کر سکتے ہیں ان کا بلیو اور وائٹ اتحاد اس وقت تقسیم ہو گیا تھا جب انہوں نے اپنی مقبولیت میں واضح کمی کے بعد نتن یاہو سے معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں