0

خلائی تحقیق کا ایک اور سنگ میل، چاند کی چٹانوں کے نمونے زمین پر لانے کے لئے چین کا مشن روانہ

چاند سے مٹی اور پتھروں کے نمونے جمع کرکے واپس زمین پر لانے کےلیے چین کا غیرمعمولی خلائی مشن ’’چانگ عہ فائیو‘روانہ کردیا گیا ہے۔ چالیس سال میں یہ چاند سے نمونے جمع کرکے لانے والا پہلا مشن بھی ہے۔ چین تحقیق کا میدان وسیع اور بھرپور بنا رہاہے تاکہ بنی نوع انسان کیلئے زیادہ سے زیادہ خدمات سرانجام دیے جاسکیں۔ سائنسی میدان میں بیدو نیوی گیشن نظام کی تکمیل اور فعالیت پہلے ہی ہوچکی ہے ۔ چین میں فائیو جی ٹیکنالوجی پہلے ہی رواج پاچکی ہے ۔ ڈیجیٹل معیشت چین کی اقتصادی نمو میں اہم حصہ ڈال رہی ہے ۔ زراعت کا میدان ہو ، ماحول دوست اقدامات ہو ، وبا ئی امراض پر تحقیق ہو سب شعبوں میں چین کی تحقیق کا دائرہ وسعت اور گہرائی اختیار کرتا جارہاہے ۔
چانگ عہ فائیو‘‘ دو حصوں پر مشتمل ہے: ایک حصہ (آربٹر) خلاء میں چاند کے گرد چکر لگاتا رہے گا جبکہ متحرک روبوٹ پر مبنی دوسرا حصہ (لینڈر) چاند کی سطح پر اتر جائے گا۔
روبوٹک لینڈر وہاں سے مٹی اور پتھروں کے نمونے جمع کرے گا، اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد اُڑان بھرے گا اور واپس آربٹر سے مل جائے گا۔ پھر یہ آربٹر اپنا راستہ تبدیل کرکے چاند کے گرد مدار سے نکلے گا اور بتدریج زمین کے گرد مدار میں آجائے گا۔
آخری اور سب سے اہم مرحلے میں یہ مشن آہستہ آہستہ زمین کے قریب آتا جائے گا اور سمندر میں پہلے سے طے شدہ ایک مقام پر اُتر جائے گا۔
مشن روانگی سے لے کر اس کی بحفاظت زمین پر واپسی تک کے تمام مراحل بہت زیادہ احتیاط کے متقاضی ہیں کیونکہ ذرا سی غلطی بھی پورے مشن کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
چانگ عہ فائیو چاند کے ایک آتش فشانی میدان ’’ماؤنٹ روئمکر‘‘ سے تقریباً 2 کلوگرام وزنی مٹی اور پتھر جمع کرے گا۔ یہ مقام اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ماؤنٹ روئمکر، چاند کی مجموعی تاریخ کے لحاظ سے ’’خاصا جوان‘‘ ہے، یعنی اسے وجود میں آئے ہوئے بہت زیادہ وقت نہیں گزرا۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ اس حصے پر ماضی میں کبھی بھی تحقیق نہیں کی گئی ہے۔ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں پائی جانے والی چٹانوں اور مٹی کی تاریخ اگرچہ ایک ارب بیس کروڑ سال قدیم ہے لیکن یہ امریکی انسان بردار مشن اپولو کی تحقیقی سائٹ پر پائی جانے والی چٹانوں اور مٹی کی نسبت قدرے نئی ہے ۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہاں سے حاصل شدہ نمونوں پر تحقیق کے ذریعے سائنسدان چاند پر آتش فشانی کی سرگرمی کی تاریخ کے بارے میں جان سکیں گے ۔ مزید یہ کہ سائنسدان چاند کی ساخت ، ارتقاء اور نظام شمسی کی تاریخ کے بارے میں بھی بہتر طور پر جان سکیں گے۔
اس سے پہلے چین نے چھانگ عہ ون ، ٹو ،تھری اور فور سمیت ایک ڈیٹا ریلے سیٹلائٹ ” چھو چھیاؤ ” لانچ کئے ہیں۔ چھانگ عہ فائیو چھانگ عہ فیملی کا چھٹا رکن ہے۔ “چھانگ عہ ون” 24 اکتوبر 2007 کو چین کے شی چھان شہر سے لانچ کیا گیا ۔ چین دنیا میں پانچواں ایسا ملک ہے جو چاند کا ڈیٹیکٹر خود لانچ کر سکتا ہے۔ “چھانگ عہ ٹو ” یکم اکتوبر 2010 کو چین کے شی چھان شہر سے لانچ کیا گیا ۔ اس کے بعد 2 دسمبر 2013 کو “چھانگ عہ تھری” کی کامیاب لانچنگ کی گئی۔ اسی برس 14 دسمبر کو “چھانگ عہ تھری” کی چاند پر ہموار لینڈنگ ہوئی ۔ امریکہ اور سابق سویت یونین کے بعد چین تیسرا ملک تھا جس نے چاند پر ہموار لینڈنگ کی۔ “چھانگ عہ فور ” 8 دسمبر 2018 کو لانچ کیا گیا جس نے کامیابی کے ساتھ چاند کے عقبی حصے پر لینڈنگ کی اور ایسا پہلی مرتبہ تھا کہ چاند پر تحقیق کے دوران عقبی جانب لینڈنگ کی گئی ہو۔ اس کے بعد چین نے 21 مئی 2018 کو ” چھو چھیاؤ ” ڈیٹا ریلے سیٹلائٹ لانچ کیا جس کے ذریعے “چھانگ عہ فور ” کا ڈیٹا زمین پر واپس بھیجا جاتا ہے۔
چھانگ عہ فائیو کے ذریعے چاند کی مٹی کی ساخت اور اجزاء کا جائزہ لے کر سائنسدانوں کو چاند کے بارے میں اپنا علم بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔یہ اور اس جیسی دوسری معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے چاند پر انسانی بستیاں بسانے کے منصوبے بھی زیادہ مؤثر انداز میں بنائے جاسکیں گے۔ اس طرح یہ چین کی جانب سے بنی نوع انسان کی ایک اور خدمت ہوگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں