0

پاکستان میں ٹیلی ہیلتھ سروسز کے دائرہ کار میں وسعت کے لیے کامسیٹس اور این ڈی ایم اے کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

اسلام آباد،دنیا کے جنوبی جنوب خطے میں پائیدار ترقی کے لیے کوشاں تنظیم کامسیٹس کے فلیگ شپ پروجیکٹ، کامسیٹس انٹرنیٹ سروسز(سی آئی ایس) اور حکومت پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت کامسیٹس انٹرنیٹ سروسزمیں ٹیلی ہیلتھ سروسز کے ذریعے آئسولیشن ہسپتالوں میںریسورس سنٹر ہائوس، انفیکشن ڈزیز ٹریٹمنٹ سنٹر اور کامسیٹس ٹیلی ہیلتھ سیٹ اپ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس معاہدے کے لیے گذشتہ روز وزیر اعظم ہائوس میں منعقدہ ایک سادہ اورپُروقار تقریب میں کامسیٹس کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی اور اتھارٹی کی جانب سے ممبر(ڈی آر آر) محمد ادریس محسود نے معاہدے کی دستاویز پر دستخط کیے۔اس موقع پرکامسیٹس کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹرڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کی تکمیل سے ملک میں قدرتی آفات کی ہلاکت خیزیوں پر بروقت قابو پانے،انسانی وسائل کی صلاحیتوں میں اضافے اور تربیت یافتہ انسانی وسائل کے تبادلے کی سمت قومی سطح کی کوششوںمیں بھرپور مدد ملے گی ۔معاہدے پر دستخطوں کی تقریب میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کے علاوہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی،حکومت پاکستان کی جانب سےٹاسک فورس کوویڈ۔19 کی ممبر اور رکن پارلیمنٹ پروفیسرڈاکٹر غزناخالداوردونوں اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے شرکاءسے کہا کہ یہ معاہدہ کوویڈ۔19کی موجودہ وبائی صورتحال کے پیش نظر نہایت اہمیت کا حامل ہے جبکہ پروفیسرڈاکٹر غزناخالد نے کامسیٹس اور این ڈی ایم اے پاکستان کے بارے میں کہا کہ اتھارٹی قدرتی آفات کی تباہی کو کم سے کم کرنے کے لیے جو خدمات سرانجام دے رہی ہے اُس کام میں کامسیٹس کا اشتراک نہایت سود مند اور دور رس نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔ میزبان تنظیم کی حیثیت سے کامسیٹس کی جانب سے تقریب کے شرکاء کو مزید بتایا گیا کہ سال 2001 کے بعد کامسیٹس کے ٹیلی ہیلتھ پروگرام نےطبی شعبوں میں کام شروع کردیا تھا ،جس کے تحت جلدی امراض کے ساتھ ساتھ شعبہ تولید میں زچہ و بچہ، نومولود بچوں کی دیکھ بھال،الٹراساؤنڈ اور آؤٹ پیشنٹ کیئر جیسے میڈیکل شعبوں کے توسط سے پاکستان کے17 دور دراز دیہی علاقوں میں 70ہزار مریضوں کو بروقت طبی سہولیات پر مبنی خدمات فراہم کی جا چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں