0

حویلیاں طیارہ حادثہ، چار سال بعد تحقیقات مکمل

حویلیاں طیارہ حادثے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ جاری کر دی گئی۔

حویلیاں طیارہ حادثہ چار سال قبل دسمبر 2016 میں پیش آیا تھا جس میں جنید جمشید سمیت 47 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

جاری کردہ رپورٹ کے مطابق طیارے کا ایک انجن بند اور دوسرے کا بلیڈ ٹوٹا ہوا تھا۔ طیارے کے انجن کا بلیڈ پشاور سے چترال جاتے ہوئے ٹوٹا تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دوران پرواز انجن خراب ہونے کے باعث اے ٹی آر طیارے کی رفتار کم ہوئی جبکہ طیارہ پائلٹ نے بھی پرواز سے پہلے انجن میں خرابی کی کوئی نشاندہی نہیں کی تھی۔ اے ٹی آر طیارے کی آخری بار مرمت کینیڈا میں ہوئی تھی۔

اس سے قبل حویلیاں حادثے کی ابتدائی رپورٹ جنوری 2019 کو جاری کی گئی تھی جس میں تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

واضح رہے قومی ائیرلائن کے طیارے پی کے 661 نے سات دسمبر 2016 کو چترال سے اسلام آباد کے لیے اڑان بھری تو مسافروں کے ہمراہ معروف نعت خواں اور مبلغ جنید جمشید اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھے۔

طیارہ اپنی منزل پر پہنچے سے قبل ایبٹ آباد کے قریب حویلیاں کے مقام پرحادثے کا شکار ہو گیا تھا جس میں سینتالیس مسافر مارے گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں